تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 216 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 216

تقریر فرمودہ 05 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم مرا کو میں تین دفعہ مسجد کے افتتاح کی خبر براڈ کاسٹ ہوئی ہے اور ابھی وہ انتظار کر رہے ہیں، جوں جوں تصاویر ٹیلی ویژن پر دکھائی جائیں گی ، وہ کمپنی ان کو اطلاع دے گی کہ فلاں فلاں جگہ ریل دکھائی گئی ہے۔ایک دن بی بی سی کا نمائندہ آ گیا اور کہنے لگا، میں نے آپ کا انٹرویو لینا ہے۔میں نے کہا تم جو سوال کرنا چاہتے ہو، وہ مجھے بتا دو۔لیکن وہ کہنے لگا، بتانے کی ضرورت نہیں۔میں سوال کرتا جاؤں گا اور آپ جواب دیتے چلے جائیں۔میں نے کہا ٹھیک ہے۔چنانچہ اس نے وہ انٹرو یولیا اور اس نے بتایا تھا کہ یہ انٹرویو بی بی سی سے دو دفعہ نشر ہوگا۔یہاں بھی ہم نے اطلاع کر دی تھی لیکن غالباً وقت کی غلطی کی وجہ سے ابھی تک مجھے کوئی اطلاع نہیں ملی کہ یہاں کسی نے یہ انٹرویو سنا ہو۔لیکن ہندوستان سے خطوط آ رہے ہیں کہ ہم نے وہ انٹرویوسنا ہے۔اور آج سیرالیون سے بھی خط آیا ہے کہ وہاں بھی دوستوں نے بی بی سی پر وہ انٹرویوسنا۔غرض اس طرح ساری دنیا میں اسلام کی آواز پہنچی اور اس پیغام کولوگوں نے سنا، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا کی طرف لے کر آئے تھے۔یعنی اب اسلام کے غلبہ کا وقت آ گیا ہے اور دنیا کی بھلائی اسی میں ہے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اسلام پر ایمان لائے اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالے۔اللہ تعالیٰ نے اس آواز کو دنیا میں پھیلا دیا اور کروڑوں آدمیوں کے کانوں تک یہ آواز پہنچ گئی۔ہم شاید کروڑوں روپیہ بھی خرچ کرتے تو اپنے طور پر اس قسم کی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے تھے ، جس کے سامان اللہ تعالیٰ نے خود بخود اپنی طرف سے پیدا کر دئیے۔وہاں اس قسم کا تصرف نظر آتا تھا کہ نہ جان ، نہ پہچان لیکن ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ لوگ ہمارے خادم ہیں۔ذراذراسی بات میں وہ ہمارا خیال رکھتے۔جب ان کی ہم پر نظر پڑتی تھی تو ان کے چہروں پر بشاشت پیدا ہو جاتی تھی اور ہر ایک آدمی اپنے کام کو چھوڑ کر ہماری طرف متوجہ ہو جاتا تھا۔دکان دار بھی ہماری طرف متوجہ ہو جاتے تھے اور سڑکوں پر چلنے والے بھی۔میں تو باہر کم ہی لکھتا تھا لیکن جب بھی میں باہر گیا ہوں ، میں نے یہ دیکھا کہ ہر شخص مجھے پہچانتا ہے۔ڈنمارک میں ایک دن ہم کو پن بیگن سے چالیس میل دور ایک مقام پر گئے۔وہاں میں نے وہاں کی جماعت کے افراد کو مدعو کیا تھا، وہ تعداد میں 35 افراد تھے۔میں نے اس دعوت کا انتظام باہر ہی کیا تھا۔اور نیت یہ تھی کہ ان دوستوں نے بڑے پیار اور محبت سے دن اور رات کام کیا ہے اور وہ کام میں اس قدر مصروف رہے ہیں کہ انہیں مجھ سے زیادہ دیر تک گفتگو کرنے کا موقع نہیں ملا، اس طرح ملاقات بھی ہو جائے گی اور ان کی دلجوئی ہوگی۔ہم سارا دن باہر رہیں گے، باہم ملاقات میں علاوہ اور باتوں کے کوئی نہ کوئی 216