تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 206 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 206

خطبه جمعه فرموده یکم ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم احمدیوں کو دیکھا ہے۔میں نے اپنے سفر میں یورپ والوں کو کہا کہ جہاں تک روس کا تعلق ہے، پیشگوئی بڑی واضح ہے۔لیکن یورپ کی طاقت کے تباہ ہونے اور ان اقوام کے کثرت سے بیچ جانے کے متعلق کوئی واضح الہام میرے علم میں نہیں ہے۔اور اس لئے مجھے تمہارے متعلق زیادہ فکر ہے۔اس لئے ہوشیار ہو جاؤ اور اپنے بچاؤ کی فکر کرو تمہیں سوائے اللہ کے آج اور کوئی بچا نہیں سکتا۔اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو تا کہ تمہیں بچایا جائے۔اگر آج وہ میری نصیحت کو مانیں اور اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کریں تو کل وہ ہم سے مطالبہ کریں گے کہ ہمیں دس ہزار (یا شاید اس سے بھی زیادہ) مبلغ اور استاد چاہئیں، جو ہمیں دین اسلام سکھائیں تو میں انہیں کیا جواب دوں گا؟ کیا میں یہ کہوں گا کہ میں نے تمہیں اس ابدی صداقت کی طرف بلایا تو تھا لیکن تمہارے دلوں میں صداقت کو قائم کرنے کے لئے میرے پاس کوئی انسان نہیں ہے؟ اسی لئے میں پریشان رہتا ہوں اور اسی لئے میں چاہتا ہوں کہ ہر احمدی مرد اور احمدی عورت دنیا کا رہبر بننے کی اہلیت پیدا کر لے۔تا کہ جب انسان ہمیں یہ کہہ کر پکارے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی طرف بلایا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کو پکار کے کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔ہم اس جھنڈے تلے جمع تو ہورہے ہیں لیکن اس جھنڈے کا سایہ، جو اسلام سیکھنے اور اس پر عمل کرنے سے ہی ہمیں حاصل ہوسکتا تھا، ٹھنڈا رحمت کا سایہ ) وہ ہم پر نہیں پڑا۔معلم اور استاد بھیجوت وہ ہمیں دین اسلام سکھائیں اور تاوہ ان باتوں کو واضح کریں۔وہ تعلیم ، وہ ہدائیتیں ہمیں دیں، جو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے ضروری ہیں۔اور اس کے جواب میں، میں یا کوئی اور، جو میرے بعد آنے والا ہے، وہ یہ کہے کہ میرے پاس تو آدمی نہیں ، میں تمہاری مدد کیسے کروں؟ کیا خلیفہ وقت کا یہ جواب، جو آپ کی طرف سے دیا جائے ، ہمارے خدا کو پیارا ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔اپنے بچوں کے ذہنوں میں، ان کے دلوں میں یہ چیز گاڑ دو کہ ہر چیز کو قربان کر کے بھی دین اسلام سیکھنے ، انوار قرآن حاصل کرنے کی طرف توجہ دو۔نہ پہلوں نے دنیا کمانے سے آپ کو روکا، نہ میں روکتا ہوں۔دنیا کمائیں دین کی مضبوطی کے لئے ، دنیا سے عیش کے لئے نہیں۔اور دنیا کماتے ہوئے بھی اتنا دین سیکھ لیں کہ جب اللہ تعالیٰ اور اس کے بندے کی آواز آپ کے کان میں پہنچے کہ اعلائے کلمہ اسلام کے لئے اور دین اسلام کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے اور ان اقوام کو، جو اسلام کی طرف جھک رہی ہیں اور رجوع کر رہی ہیں، ان کو اسلام کی تعلیم سکھانے کے لئے آدمی چاہئیں تو آپ میں سے ہر ایک اس قابل ہو کہ انہیں اسلام سکھا سکے۔اور اس بات کا عزم اپنے دل میں 206