تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 174
خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اگست 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم دیں گے بلکہ وہ سیدھا لا ہور چلا جائے گا۔وہاں جن لوگوں کو اس بات کا پتہ لگا ، ان کو بھی پریشانی ہوئی۔عملاً جہاز والوں نے ہمیں یہ اطلاع دی کہ بیلٹ کس لیں ، دو، ایک منٹ میں جہاز اتر نے والا ہے۔اس کے بعد میں منٹ تک وہ جہاز او پر اڑتارہا اور کراچی شہر بھی پیچھے رہ گیا۔میرے اندازہ کے مطابق ہم تھیں، چالیس میل کے قریب کراچی سے آگے نکل گئے۔پھر اس نے چکر لگایا اور واپس کراچی آکر وہ اترا۔یہ بھی ایک قسم کی پریشانی ہی تھی۔پھر سامان وغیرہ کی وجہ سے کچھ پریشانی ہوئی۔بہر حال انجام بخیر ہوا اور ہم خوش تھے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر یہ پریشانیاں مل گئیں۔اللہ تعالیٰ فضل کرنے والا ہے۔دعا ئیں بھی جماعت نے بہت کیں اور ہم کو بھی اللہ تعالیٰ نے بہت دعائیں کرنے کی توفیق دی۔اور وہ بڑی قدرتوں والی ہستی ہے، جب وہ اس قسم کی چیز انسان کے علم میں لاتا ہے تو اس کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ دعائیں کروں، میری قدرت کو اپیل کرو اور عرش تک اپنے نالوں کو پہنچاؤ۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔جس وقت ہم یورپ گئے ، اس وقت ہمارا یہ راستہ تھا۔پہلے فرینکفورٹ ، پھر زیورک، پھر ہیگ، پھر ہیمبرگ، پھر کوپن ہیگن اور پھر لنڈن اور گلاسگو۔زیورک میں ایک دن صبح میری آنکھ کھلی تو میری زبان پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام تھا۔مُبَارِک وَّ مُبَارَكٌ وَكُلُّ امْرِ مُبَارَكِ يُجْعَلُ فِيهِ یہ الہام اخبار الفضل میں بھی چھپ چکا ہے۔اس سے دوسرے دن تین بجے کے قریب میری آنکھ کھلی اور میری زبان پر قرآن کریم کی ایک آیت تھی اور ساتھ ہی مجھے اس کی ایک ایسی تعبیر بھی بتائی گئی، جو بظاہر انسان ان الفاظ سے نہیں نکال سکتا۔اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ تعبیر مجھے اللہ تعالیٰ نے ہی سکھلائی تھی۔میں خوش بھی ہوا لیکن مجھے حیرت بھی ہوئی کہ بعض دفعہ کیا کیا تعبیریں نکل آتیں ہیں۔اگر میرے ذہن پر چھوڑا جاتا یا آپ میں سے کوئی ماہر تعبیر بتانے والا بھی ہوتا تو اس کی وہ تعبیر نہ کرتا، جو اس وقت میرے ذہن میں آئی۔اور ابھی اس خواب کو دیکھیے چار، پانچ گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ وہ پوری ہو گئی۔چونکہ طبیعت پر اثر تھا کہ یہ خواب جلد پوری ہونے والی ہے، اس لئے جس وقت منصورہ بیگم کی آنکھ کھلی، میں نے انہیں بتادیا کہ میری زبان پر یہ آیت جاری ہوئی ہے اور مجھے اس کی یہ تعبیر بتائی گئی ہے، اس کو یادر کھل۔پھر چار، پانچ گھنٹوں کے بعد ہمیں پتہ لگ گیا کہ اس تعبیر کے لحاظ سے وہ خواب پوری ہوگئی۔جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ مجھے دلی اطمینان کے لئے اس کی ضرورت ہے، باقی ایمان تو مجھے ہے۔اسی طرح ہمیں ایمان تو تھا لیکن دلی اطمینان کے لئے اللہ تعالیٰ نے دوسرے ہی روز ایک ایسی بات بتادی کہ جو چند گھنٹوں میں پوری 174