تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 2
اقتباس از خطاب فرموده 06 دسمبر 1965ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ان صداقتوں کے بغیر، آج ہم قرآن کریم کی اس تفسیر کے بغیر ، جو خدا کے مسیح نے ہمارے ہاتھ میں دی ہے، دنیا میں اسلام کو غالب نہیں کر سکتے۔پس جو ہتھیار اور تلوار خدا تعالیٰ نے ادیان باطلہ کو ختم کرنے کے لئے ہمارے ہاتھ میں دی ہے، انہیں اس عرصہ قیام مرکز میں صیقل کرنے کی کوشش کریں۔آنے والے مبلغین پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کے مکینوں پر یہ بات واضح کریں کہ بیرون ممالک میں بسنے والی حق کی متلاشی روحیں کس طرح تڑپ رہی ہیں؟ جہاں تک مجھے یاد ہے، شروع سے ہی مختلف ممالک سے یہ مطالبات آتے رہے ہیں کہ ہمارے پاس مبلغ بھجواؤ۔ابھی مکرم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نجی اور بعض دوسرے ممالک سے ہو کر آئے ہیں۔انہوں نے مجھ پر زور دیا ہے کہ نبی میں کم از کم چار مبلغ اور جانے چاہئیں۔کیونکہ وہ ملک احمدیت کو قبول کرنے کے لئے تیار نظر آرہا ہے اور عوام کی اس طرف توجہ ہے۔اسی طرح پر اور بھی کئی ممالک ہیں، جہاں پر دودو، چار چار اور دس دس مبلغین کی ضرورت ہے۔پس ضرورت ہے، دردمند اور مخلص دل رکھنے والے احمدی نوجوانوں کی ، جن کے دلوں میں اسلام کو پھیلانے کی تڑپ ہو۔جو میرے بھائی باہر جارہے ہیں، ان کو میں یہ نصیحت کروں گا کہ آپ ایک اسلام کی فوج کے مجاہد ہیں۔آپ اس پاک ہستی کی نمائندگی کرتے ہوئے باہر جارہے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ نے ”امن کا شہزادہ لقب عطا فرمایا ہے۔پس آپ کا بڑا فرض یہ ہے کہ آپ اپنے دل میں اخوت اور ہمدردی کے جذبہ لک پہنچا ئیں کہ جس سے بھی آپ کا تعلق ہو یا جس سے بھی آپ ملیں یا با تیں کریں، اسے یہ یقین ہو جائے کہ یہ شخص خواہ غلطی پر ہے یا حق پر لیکن اس میں شک نہیں کہ ہے میرا ہمدرد اور خیر خواہ۔اگر آپ اپنے ماحول میں یہ فضا پیدا کر لیں تو پھر دنیا آپ کی بات سننے کے لئے تیار ہو گی۔لیکن اگر وہ یہ سمجھیں کہ آپ اپنا کوئی فائدہ حاصل کرنے کے لئے آئے ہیں۔یا وہ یہ سمجھیں کہ آپ اپنے آپ کو حاکم یا ڈانڈا بردار سمجھتے ہیں۔یا وہ یہ سمجھیں کہ آپ محبت کی بجائے ان سے نفرت کرتے ہیں۔یا وہ یہ سمجھیں کہ آپ خیر خواہی کی بجائے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں تو وہ کیوں آپ کے قریب آئیں گے؟ آپ دعا کریں کہ اللہ تعالی آپ کو زندہ جذبہ عطا فرمائے۔یہ بڑی چیز ہے۔اور خدا تعالیٰ سب سے زیادہ یہ قوت اپنے ماموروں کو، اپنے صالح بندوں کو عطا کرتا ہے۔اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر جو جذب کی قوت اللہ تعالیٰ نے رکھی تھی ، وہ اس وقت ہی نہیں کھینچی تھی ، اس زمانہ میں بھی ہمیں کھینچ لیتی ہے۔قرآن کریم پڑھتے ہوئے اور احادیث کا مطالعہ کرتے 2