تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 154 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 154

خطبہ جمعہ فرمود 04 اگست 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں یسوع مسیح کی محبت یورپ میں بسنے والوں کے دلوں میں بہت زیادہ رچی ہوئی تھی اور یہ لوگ عیسائیت پر ایمان لائے بغیر نجات کو ناممکن سمجھتے تھے۔لیکن آج خدا تعالیٰ نے ملائکہ کے نزول کے ذریعہ سے ان کے دلوں سے عیسائیت کے بہت سے نفرت پیدا کردی ہے۔یہاں تک کہ خود عیسائی پادری بھی یسوع مسیح پر الزام لگانے میں پیش پیش ہیں۔نیز ایک عظیم بنیادی گناہ شرک دنیا سے مٹ رہا ہے اور اس سے کمتر گناہ یعنی دہریت نے اس کی جگہ لے لی ہے۔اس میں شک نہیں کہ شرک اور دہریت، ہر دو ہی بڑے گناہ ہیں۔لیکن دہریت شرک سے کم ہے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو نہ ماننا، اتنا بڑا گناہ نہیں ، جتنا شرک کرنا۔کیونکہ دہریہ تو روحانیت سے بالکل بے بہرہ ہے۔لیکن مشرک خدا تعالیٰ کو پہچان کر اس کے ساتھ شریک یدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اور یہ گناہ یقین دہریت سے زیادہ ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے بار بار یہ فرمایا ہے کہ شرک کا گناہ معاف نہیں ہوسکتا۔غرض ایک بڑے گناہ سے ہٹ کر یہ اقوام ایک نسبتاً چھوٹے گناہ کی طرف آرہی ہیں۔اور ایک بڑی روک، جو جذباتی تھی، یعنی مسیح سے پیار، اس کو فرشتوں نے مٹادیا ہے۔اب ایک خلاء پیدا ہوتا جارہا ہے۔اس خلاء کو اللہ تعالیٰ احمدیت اور اسلام کے ذریعہ ہی پر کرے گا۔انشاء اللہ۔لیکن اس خلاء کو پر کرنے کے لئے بھی دعاؤں کی ضرورت ہے۔اور جو خواب میں نے شروع میں بیان کی ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اور میرے ذریعہ جماعت کو یہ توجہ دلائی ہے کہ اگر چہ کام بہت بڑا ہے اور ہم کمزور ہیں لیکن اگر ہم اپنے خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جائیں تو خدا تعالیٰ معجزے دکھا کر اور ملائکہ کو نازل کر کے اور انذاری نشانات دکھا کر اسلام کی طرف ان اقوام کو متوجہ کر دے گا۔اور جو ہمارے دل کی خواہش ہے کہ یہ لوگ اسلام میں داخل ہوں پوری ہو جائے گی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوخدا تعالیٰ نے جو یہ وعدہ دیا تھا کہ اسلام کے غلبہ کے ایسے سامان پیدا کر دیئے جائیں گے کہ دنیا کا کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہ کر سکے گا، وہ سامان پیدا ہو جائیں گے۔یہی ہم پر پہلی اور آخری ذمہ داری دعا کی ہے۔ہمارا ہتھیار دعا ہی ہے، جس سے کامیابی ہو گی۔ہماری تمام تدبیریں تبھی کامیابی کا منہ دیکھ سکیں گی، اگر ہم اس کے ساتھ دعاؤں کو شامل کر لیں۔دعا ہی ہمیں دنیا میں فتح دے سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ان کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔( مطبوعه روز نامه الفضل 16 اگست 1967 ء )) 154