تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 153
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبه جمعه فرموده 104 اگست 1967ء ہمارا ہتھیار دعا ہی ہے، جس سے کامیابی ہوگی خطبہ جمعہ فرمودہ 04 اگست 1967ء تعوذ وتشہد و سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میری ایک روباہ کاتعلق اسلام کی ترقی سے ہے۔میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ کھڑے ہیں۔ایک شخص، جس کا نام خالد ہے، کہتا ہے کہ آپ نام رکھ دیں۔لیکن یہ یاد نہیں رہا کہ وہ کسی بچے کا نام رکھوانا چاہتا ہے یاکسی بڑے کا یا اپنا نام بدلوانا چاہتا ہے۔میں نے کہا کہ میں ” طارق نام رکھتا ہوں۔پھر میں نے کہا کہ طارق نام ہی نہیں ، دعا بھی ہے اور یہ دعا بہت کرنی چاہئے۔اس خواب کی مجھے یہ تفہیم ہوئی ہے کہ طارق رات کے وقت آنے والے کو کہتے ہیں۔رات کے وقت ملائکہ کا نزول بھی ہوتا۔تا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کو صبح صادق کے ظہور سے تعبیر کیا ہے۔اور طارق کے معنی روشن اور صبح کے وقت طلوع ہونے والے ستارے کے بھی ہیں۔اور یہ ستارہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ رات گزرگئی ہے اور دن چڑھنے والا ہے۔پس اس خواب کا مطلب یہ ہوا کہ مغربی اقوام جو بظاہر مہذب کہلاتی ہیں لیکن در حقیقت انتہائی غیر مہذب اور گندی زندگی بسر کر رہی ہیں اور بظاہر اسلام کی طرف ان کی توجہ ممکن نظر نہیں آرہی ، دعا کے ذریعہ ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہو جائیں۔عقلی دلائل یہ سننے کو تیار نہیں۔ان کو تو دعا ہی خدا تعالیٰ کی طرف لاسکتی ہے۔دلائل کے علاوہ دو صورتیں رہ جاتی ہیں۔ایک یہ کہ اگر یہ اپنے خالق حقیقی کی طرف متوجہ نہ ہوں تو عذاب الہی ان پر نازل ہو جائے گا، جس کے نتیجہ میں ان کے دلوں میں تبدیلی پیدا ہو جائے گی۔دوسرے ملائکہ کا نزول ہو ، جو ان کے دلوں کو اسلام کی طرف پھیریں۔لیکن اس کے لئے بھی دعاؤں کی ضرورت ہے۔خصوصا رات کے وقت کی دعاؤں کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے فرشتوں کے نزول کے ذریعہ انقلاب عظیم پیدا فرمائے گا۔اور خود میرا ذکر کہیں پہنچے یا نہ پہنچے، خدا تعالیٰ کے حکم سے ملائکہ لوگوں کے دلوں میں تغیر پیدا کریں گے اور ان کو حق کے قبول کرنے اور اسلام پر عمل کرنے کی طرف لائیں گے۔153