تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 151
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم - خلاصہ خطاب فرمودہ 29 جولائی 1967ء تعالی کی بجائے دوسرے وجودوں کی عبادت کرتے ہیں، ان وجودوں کے خلاف تمہارے منہ پر کوئی بات نہ آئے تا اس طرح ان کو تکلیف نہ پہنچے۔یہ عظیم الشان تعلیم اس سے قبل کسی مذہب میں نہ پائی جاتی تھی۔پھر ہم معاشرہ سے متعلق اسلامی تعلیم کو لیتے ہیں۔اسلام نے انسان کی جان، مال اور عزت کی ضمانت دی ہے اور فرمایا کہ جو شخص کسی کو قتل کرتا ہے گویا اس نے ساری دنیا کو قتل کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت میں بھی یہی تعلیم ملتی ہے۔آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اس مبارک مہینہ میں اس مبارک مقام پر اس مبارک دن میں، میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ غیروں کی ملکیت کی حفاظت کرنا۔اسلام غاصب کا ساتھ نہیں دیتا، مظلوم انسان کا ساتھ دیتا ہے۔انسان کو اپنی عزت کے معاملہ میں بڑی غیرت ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ ہر ایک کی عزت کی حفاظت کرو۔تم ہر ایک کی عزت کے پاسبان ہو۔عزت کی حفاظت سے متعلق اسلام نے تفصیلی احکام بیان کیسے ہیں۔مثلاً 1 - اسلام اس سے منع کرتا ہے کہ کسی شخص کو برا بھلا کہا جائے۔صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ تمام انسانوں کو۔اسلام تعلیم دیتا ہے کہ کسی کی غیبت نہ کرو۔اگر کسی کی معیوب بات سامنے آئے تو بھی مجلس میں بیان نہ کرو۔تا اس کے دل میں نفرت پیدا نہ ہو اور امن کے خلاف فضا پیدا نہ ہو جائے۔2 اسلام یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ کسی کی طرف ایسی بات منسوب نہ کرو کہ جو اس نے کہی نہ ہو۔اکثر لوگ اس سے پر ہیز نہیں کرتے۔اسلام نے یہ کہا ہے کہ کسی پر الزام نہ لگاؤ۔غلط باتیں دوسروں کے متعلق کہہ دی جاتی ہیں۔توں اے کیتا سی“ اور ” توں اوکیا سی“ سے جھگڑے پیدا ہو جاتے ہیں اور آخر کئی انسان قتل ہو جاتے ہیں۔3۔اسلام یہ کہتا ہے کہ کسی کے خلاف بطنی نہ کرو۔مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔میرا ایک چھوٹا بچہ ہے، جس کا نام لقمان احمد ہے۔ہمارے کالج میں ایک طالب علم تھا، جس کا نام لقمان شاہ تھا۔میرے بچے لقمان کا بڑا بھائی ، چھوٹے بھائی کو چھیڑتے ہوئے لقمان شاہ کہہ دیا کرتا تھا، جس پر لقمان بہت غصہ میں آ جاتا۔ایک دفعہ میرا بڑا لڑ کا قرآن مجید پڑھ رہا تھا۔جب وہ اس آیت پر پہنچا وَإِذْ قَالَ نُقْمَنُ لِابْنِهِ تو فورا چھوٹا لڑکا لقمان اس کے پاس آیا اور اس سے ناراضگی کا اظہار کرنے لگا۔وہ استاد، جو میرے بڑے لڑکے کو پڑھا رہا تھا، اس نے کہا کہ یہ تو قرآن ہے اور قرآن مجید میں اس کا ذکر ہے۔151