تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 98 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 98

خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1966 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم دوسرے سال دفتر سوم کے وعدے کم از کم ایک لاکھ تک ہونے چاہئیں اور یہ کوئی مشکل امر نہیں۔کیونکہ اس کے لئے بھی ہم نے اندازاہ لگایا ہے کہ اگر ایسے دوست اس طرف متوجہ ہوں ، جو دفتر سوم میں آتے ہیں۔ان کے وعدے آسانی سے ایک لاکھ تک پہنچ سکتے ہیں۔ویسے تو اللہ تعالیٰ نے جماعت کو قربانی کی بڑی توفیق عطا کی ہے اور اس کو وہ قبول بھی فرماتا ہے۔اور جب وہ قبول فرماتا ہے تو ھدی للمتقین کی روشنی میں مزید ہدایت اور ہدایت کے ارفع تر مقام کی طرف انہیں لے جاتا ہے اور مزید قربانیاں دینے کا جذبہ اور شوق ان میں پیدا ہوتا ہے۔تحریک جدید کے پہلے سال جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی سکیم مختلف خطبات میں دوستوں کے سامنے رکھی تو آپ نے اس کے لئے چندہ کا اندازہ ساڑھے 27 ہزار روپیہ جماعت کو بتایا۔لیکن اس کے مقابلہ میں اس سکیم کو چلانے کے لئے جماعت نے 98 ہزار روپیہ ( دو ہزار یم ایک لاکھ ) حضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔پچھلے سال ہماری مستورات نے تحریک جدید کا چندہ نہیں بلکہ تحریک جدید کی ایک شق کا چندہ (یعنی مسجد ڈنمارک کا چندہ) تین لاکھ، چھ ہزار روپیہ نقد جمع کر دیا۔اس طرح یہ چندہ تحریک جدید کے پہلے سال کے چندہ سے تین گنا زیادہ جمع ہوا۔حالانکہ یہ چندہ صرف ہماری بہنوں نے جمع کیا۔فالحمد لله علی ذالک۔گویا تحریک جدید کے پہلے سال میں ساری جماعت مردوں، عورتوں اور بچوں نے مل کر بھی ایک لاکھ کی رقم پوری نہ کی تھی۔( دو ہزار کم تھے ) اور گذشتہ سال ڈنمارک کی مسجد کے لئے صرف ہماری بہنوں نے تین لاکھ ، چھ ہزار کی رقم جمع کر دی۔تو جب انسان خدا کی راہ میں قربانی دیتا ہے اور خدا تعالیٰ اسے قبول کر لیتا ہے تو اسے مزید قربانی کی توفیق بخشتا ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ اپنے ایک بندہ کو دس روپیہ انعام دیتا ہے اور وہ اس دس روپیہ میں سے کچھ اس کی راہ میں قربان کر دیتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اس کو مزید توفیق بخشتا ہے تا وہ ہدایت کے راستوں پر اور آگے بڑھے۔پھر وہ اور آگے بڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دس روپے کی بجائے ایک ہزار روپے انعام دیتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میرا بندہ ایک ہزار روپیہ لینے کے لئے تو پیدا نہیں کیا گیا، یہ تو ایسے انعام کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ دنیا کی عقل اس کا اندازہ نہیں کر سکتی۔کسی آنکھ نے نہیں دیکھا کسی کان نے نہیں سنا کسی زبان نے نہیں چکھا، کسی کے خیال میں بھی یہ انعامی چیزیں نہیں گزرتیں۔اس لئے میں اسے اور آگے بڑھنے کی توفیق دیتا ہوں۔پھر وہ بڑی بشاشت سے اور زیادہ قربانی خدا کی راہ میں پیش کرتا ہے تو خدا تعالیٰ ایک ہزار کی بجائے ایک لاکھ روپیہ اسے انعام دیتا ہے۔پھر ایک کروڑ ، پھر ارب۔یہ گنتی ختم ہونے والی نہیں۔کیونکہ خدا 98