تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 95 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 95

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1966ء تو ایک شکل مجاہدہ یا جہاد فی سبیل اللہ کی یہ ہے کہ انسان ایسے وقت میں اپنی جان قربان کر دیتا ہے اور کمزوری نہیں دکھاتا ،صداقت سے منہ نہیں موڑتا۔دشمن کہتے ہیں کہ تم تو بہ کرلو تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔وہ کہتا ہے کہ کس چیز سے تو بہ؟ تو بہ کر کے حق کو چھوڑ دوں؟؟ صداقت سے منہ پھیروں اور باطل کی طرف آ جاؤں؟؟؟ ایسا مجھ سے نہیں ہو سکتا۔مرنا آج بھی ہے اور کل بھی۔تمہارا جی چاہتا ہے تو مار دو لیکن میں صداقت کو نہیں چھوڑ سکتا۔پانچویں شکل مجاہدہ کی ، جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے، وہ ہجرت فی سبیل اللہ ہے۔اس کی تفصیل کو میں اس وقت چھوڑتا ہو۔چھٹی شکل اللہ تعالیٰ نے ، جو مجاہدہ فی سبیل کی بتائی ہے، وہ ہے، خدا کے دین کی خاطر اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے انسان سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرے۔سفر میں بہر حال ویسا آرام نہیں مل سکتا، جیسا کہ اپنے گھر میں ملتا ہے۔بعض لوگ سفر سے گھبراتے ہیں۔بعض لوگ بار بار سفر کرنے سے گھبراتے ہیں۔تو ہمارے مربی، معلم اور انسپکٹر صاحبان کو ، جو سال کے چھ، سات ماہ سفر میں رہتے ہیں، خوش ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بھی اپنی راہ میں مجاہدہ قرار دیا ہے۔اور اس کی جو برکات ایک مجاہد پر نازل ہوتی ہیں، یہ لوگ بھی اس کے وارث ہیں۔جیسا کہ فرمایا:۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ اگر چہ اس آیت میں اپنی context کے لحاظ سے یعنی اس مضمون کے لحاظ سے جو اس آیتہ میں بیان ہوا ہے، یہ سفر جنگ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔لیکن جنگ کرنے کا ثواب علیحدہ ہے اور اذا ضربتم فی سبیل اللہ کا ثواب علیحدہ یہاں بتایا گیا ہے۔اسی طرح انْفِرُوا فِي سَبِيْلِ اللهِ ہے۔تو بہت دفعہ خدا کی راہ میں سفر کرنا پڑتا ہے۔مثلاً وقف عارضی میں وقف کرنے والوں کو میں نے یہی کہا تھا کہ تم بتاؤ کہ تم کتنا سفر کر سکتے ہو؟ اس کے جواب میں بعض دوستوں نے لکھا کہ ہم اپنے خرچ پر پندرہ ، میں میل سفر کر سکتے ہیں۔بعض نے لکھا کہ ہم پچاس، ساٹھ میں سفر کر سکتے ہیں۔بعض نے لکھا کہ ہم سو، ڈیڑھ سو میل سفر کر سکتے ہیں۔بعض نے لکھا کہ سارے پاکستان میں جہاں آپ کی مرضی ہو ، بھجوادیں، ہم سفر کرنے کے لئے تیار ہیں۔تو ایسے مومن بھی مجاہدین میں شامل ہیں۔پس خدا تعالیٰ کی راہ میں سفر کرنے کو بھی اللہ تعالی نے مجاہدہ کی ایک قسم قرار دیا ہے۔95