تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 91 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 91

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1966ء بخشش کا اسے وارث قرار دیتی ہیں۔پھر جب وہ مزید فضل اور بخشش کا وارث بنتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا پہلے سے بھی زیادہ شکر گزار بندہ بن جاتا ہے۔اور جب وہ پہلے سے بھی زیادہ شکر گزار بندہ بنتا ہےتو اللہ تعالیٰ پہلے سے بھی زیادہ اس سے محبت کا سلوک کرنے لگ جاتا ہے۔جب وہ دیکھتا ہے کہ خدا مجھ سے پہلے سے بھی زیادہ محبت کا سلوک کر رہا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اور بھی زیادہ جھک جاتا ہے اور اس طرح ایک تسلسل قائم ہو جاتا ہے اور ہر آن بندہ خدائے واسع کی صفت واسع کا مشاہدہ کرتا چلا جاتا ہے۔پس فرمایا کہ مجاہدہ کرو۔پھر فرمایا کہ تم مجاہدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے اس صورت میں صرف امیدوار ہو سکتے ہو۔ہاں اگر تم بدیوں کو چھوڑو نہیں اور نیکیوں کو اختیار نہ کرو تو پھر تم کس طرح امید رکھ سکتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تم سے رحمت کا سلوک کرے گا؟ لیکن اگر تم ایسا کر لوتو ابھی صرف یہ ایک امید ہے، ابھی واقع نہیں۔جب تک اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو اور جب اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو جائے تو یہ امید حقیقت بن جاتی ہے۔مجاہدہ کے معنی کو جب ہم قرآن کریم کی دوسری آیات کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل باتوں کو جہاد یا مجاہدہ میں شامل کیا ہے۔اور یہاں میری مراد مجاہدہ سے نیکیوں کا اختیار کرنا ہے، جو مجاہدہ کا ایک پہلو ہے۔بدیوں کو چھوڑ نا دوسرا پہلو ہے۔مگر میں اس وقت پہلے حصہ کے متعلق ہی بیان کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ سورۃ انفال میں فرماتا ہے:۔وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَالَّذِينَ اوَوُا وَ نَصَرُوا أوليك هُمُ الْمُؤْمِنُونَ ، (آیت : 75) اس آیتہ میں مجاہدہ کی مندرجہ ذیل قسمیں بیان کی گئی ہیں:۔1- ایک مجاہدہ ہے، جو ہجرت کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ایک تو وہ بڑی ہجرت ہے، جو نبی کریم صلی اللہ لیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے کی۔اور ایک وقت آنے پر آپ نے فرمایا کہ اب اس قسم کی ہجرت نہیں رہی۔پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے اور خدا تعالیٰ کی توحید کے قیام کے لئے کوشش کرتے تھے اور خدائے واحد کی صفات کو بلند آواز سے لوگوں تک پہنچاتے تھے۔پھر کچھ لوگ آپ کے ساتھ شامل ہوئے۔اور اہل مکہ نے اور ان لوگوں نے ، جو مکہ کے گردر بہنے والے تھے ، اتنے دکھ اور 91