تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 80 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 80

اقتباس از خطاب فرموده 22اکتوبر 1966ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم حصہ مساجد کے لئے چندہ ہے۔اور مساجد وہ جگہ ہیں، جہاں اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کیا جاتا ہے اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی صدا بلند ہوتی ہے۔لیکن اس کے علاوہ جو تر بیتی ذمہ واری احمدی بہنوں پر عائد ہوتی ہے ، اس کی طرف ابھی تک پوری توجہ نہیں دی گئی۔شاید اس کا موقع ہی ان کو بہم نہ پہنچایا گیا ہو یا شاید انہوں نے اس طرف توجہ دینا ضروری خیال نہ کیا ہو۔لیکن ہمیں یہ غور کرنا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ بچے پر دس سال کی عمر میں نماز فرض ہو جاتی ہے۔لیکن اس فرض نماز کی عادت ڈالنے کے لئے اگر اس سے بھی پہلے نہیں تو کم از کم سات سال کی عمر کو جب وہ پہنچے تو اس کو نماز کی طرف متوجہ کرتے رہنا چاہیے۔تاجب نماز فرض ہو تو وہ نماز کا عادی ہو چکا ہو اور نماز سے پیار کرنے لگ چکا ہو اور نماز کی محبت اس کے دل میں گڑ چکی ہو اور وہ ذہنی طور پر اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہو کہ جب تک ہم اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز نہیں ہوتے اور اس سے دعا ئیں نہیں مانگتے ہمیں اس دنیا میں بھی فلاح حاصل نہیں ہو سکتی اور اخروی زندگی میں بھی ہم اس کی رضا کو حاصل نہیں کر سکتے۔اسلام میں صرف نماز کو ہی مسلمان مرد اور مسلمان عورت پر فرض نہیں کیا گیا بلکہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے فرائض ہیں، جن میں سے ایک حصہ مالی قربانیوں اور مالی جہاد کا ہے۔اس لئے جس طرح نماز فرض ہونے سے پہلے، بچے کو وہ نماز پڑھائی جاتی ہے کہ جو بھی اس پر فرض نہیں ہوتی۔سات سال کے بچے پر ظہر کی نماز عصر کی نماز مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں فرض نہیں۔جب ہم ان کو یہ نمازیں پڑھاتے ہیں تو وہ فرض تو نہیں پڑھ رہے ہوتے۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ان نمازوں کو ابھی فرض ہی نہیں کیا۔اسی طرح مالی میدان میں بھی بچوں کو اس کی عادت ڈالنی چاہیے تاوہ ان قربانیوں میں، جو خدا کی توحید کے قیام اور اشاعت اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دلوں میں ڈالنے کے لئے دی جارہی ہیں، ان میں بچپن ہی میں طوعی اور نفلی طور پر حصہ لینے لگ جائیں۔ہماری جماعت میں جماعتی نظام کے لحاظ سے مالی قربانی بطور فرض اس وقت عائد ہوتی ہے، جب کوئی شخص کمانے لگ جاتا ہے یا بلوغت کے بعد جیب خرچ کی شکل میں اس کے پاس کوئی رقم ہوتی ہے۔بعض خاندانوں میں یہ رواج ہے کہ وہ پڑھنے والے بچوں کو جیب خرچ کے طور پر کچھ رقم دیتے ہیں۔اگر وہ بچے ہوش سنبھال چکے ہوتے ہیں یا پہنی بلوغت کو پہنچ چکے ہوتے ہیں تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مالی قربانی ایک فرض ہے اور اس فرض میں ہمیں بھی حصہ لینا چاہیے۔ہمارے ملک میں اور اسلامی معاشرہ میں عورت زیادہ تر کمانے والے میدان میں داخل نہیں ہوتی۔الا ماشاء اللہ اب بعض ضرورتوں کے مطابق اور 80