تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page ix of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page ix

غالب کرے گا، یہ مجلس اس وعدہ کو پورا کرنے کے لئے جدو جہد کرے۔اور ساری جماعت ان کے ساتھ شامل رہے۔کیونکہ سارے ایک جان ہی ہیں۔یہ کام بڑا ہی مشکل ہے۔اس میں اندرونی رکاوٹیں بھی ہیں اور بیرونی رکاوٹیں بھی۔(خطبہ جمعہ فرمود 240 اکتوبر 1969 ء ) پھر مزید فرماتے ہیں:۔تحریک جدید کا کام بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔اور ہماری ضرورتیں دن بدن بڑھ رہی ہیں۔ان بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنا اور کرتے رہنا، یہ جماعت کا فرض ہے۔اور جماعت کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔اور اللہ تعالیٰ جس حد تک توفیق دے، اپنے مالوں کو (جو دراصل اپنے نہیں ) اس کے حضور پیش کر دینا چاہیے۔“ خطبه جمعه فرموده 29 اکتوبر 1971ء) تحریک جدید کے کام کے خوشکن نتائج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔تحریک جدید کے کام اور ذرائع ہر دو میں 1944ء کے بعد ایک انقلاب عظیم جو بپا ہونا شروع ہوا تھا۔اس نے اب پوری وسعتوں کے ساتھ صحیح شکل اختیار کر لی ہے۔1944ء تک تحریک جدید کے سارے کاموں کا بوجھ جماعت ہائے احمد یہ ہندوستان پر تھا۔بیرون ہندوستان آمد کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔نہ چندے کی شکل میں اور نہ کسی اور شکل میں۔۔۔1944 ء کے بعد آہستہ آہستہ بیرون پاکستان کی جماعتیں اپنے پاؤں پر کھڑی ہونی شروع ہوئیں۔اور وہ غرض جس کے لیے تحریک جدید کو قائم کیا گیا تھا، گو وہ اپنے کمال کو تو ابھی نہیں پہنچ سکی۔شائد ایک صدی اور لگ جائے۔لیکن ایک انقلاب کی نمایاں شکل ہمیں نظر آنے لگ گئی۔ارشاد فرمودہ 31 مارچ 1973 ء ) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت اور جماعت احمدیہ کے قیام کی غرض کو پورا کرنے کے لئے ہی تحریک جدید کا اجرا کیا گیا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس تحریک کے تمام مطالبات پر عمل کرنے اور اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے تا کہ ہم اس مقصد کو پورا کرنے والے ہوں، جس غرض کے لئے ہم احمدی ہوئے ہیں۔آمین