تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 542
خطبہ جمعہ فرموده 19 جون 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اکرہ سے کماسی 170 میل ہے اور کماسی سے بچی من 70 میل کے قریب۔وہاں سے کئی سومیل شمال مغرب کی طرف ہماری وا کی جماعتیں ہیں۔وہ علاقہ وا کہلاتا ہے۔وہاں بھی ہماری بیسیوں جماعتیں ہیں۔میں کماسی سے جس روز جارہا تھا، ستر میل دوسری طرف ٹیچی من کی مسجد کے افتتاح کے لئے۔مجھے بتایا گیا کہ وا کے دوسو احمدی بسیں لے کر آج رات پہنچ رہے ہیں۔یعنی جس صبح کو ہم نے ٹیچی کے لئے چلنا تھا، اس سے پہلی رات کو انہوں نے مجھے یہ کہا۔میں نے انہیں کہا کہ اب تو ٹیچی من کا پروگرام ہے اور یہ قریب تھا، وہاں کیوں نہیں آئے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ وہ رستے ٹھیک نہیں، یہ اچھا راستہ ہے۔چنانچہ وہ کماسی پہنچ گئے۔میں نے ان سے کہا کہ ان سے کہو، پھر انتظار کرو۔میں ستر میل وہاں گیا ، وہاں سارے دن کا پروگرام تھا۔پھر ستر میل واپس آیا۔مغرب سے ذرا پہلے پہنچے۔نماز پڑھانے چلا گیا۔سکول میں کئی ہزار آدمی آ جاتا تھا ، مغرب و عشاء میں۔کماسی میں انہیں کہا کہ نماز کے بعد صبح مجھ سے ملیں۔میں نے یہ خیال نہیں کیا کہ میں تھکا ہوا ہوں ، مجھے آرام چاہئے۔میں تو وہاں بمشکل ڈیڑھ، دو گھنٹے سوتا تھا۔وہاں تو مجھے نیند نہ آتی تھی۔اب آنی شروع ہوئی ہے۔بہر حال وہاں مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔اور میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں نے تکلیف اٹھائی۔کیونکہ میں نے کوئی تکلیف نہیں اٹھائی۔اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا کہ اس کے باوجود میری صحت اچھی ہوگئی۔ڈاکٹر کی مجھے ضرورت نہیں پڑی۔بشاش ہنستا کھیلتا میں ان میں رہا ہوں۔سارا وقت نماز کے بعد میں مردوں سے ملا اور منصورہ بیگم مستورات سے (منصورہ بیگم کو اللہ تعالیٰ جزا دے، انہوں نے بڑا کام کیا میرے ساتھ ) اور ان مستورات کی بڑی خدمت کی ہے۔مثلاً مستورات سے ملنا ملانا۔ورنہ ان کی سیری نہیں ہوتی۔بہر حال مجھے خیال آیا کہ کئی سو میل سے آئے ہیں ، زیادہ وقت میرے ساتھ رہ نہیں سکے، صبح ہی انہوں نے واپس چلے جانا ہے، یہی گھنٹہ، دو گھنٹہ ہیں، جو بیٹھ سکتے ہیں، میرے ساتھ۔دوسروں کی نسبت جن کو زیادہ وقت ملا ہے، یہ زیادہ مستحق ہیں۔میں ان کے لئے کیا کروں کہ ان کا حق ادا ہو جائے۔پھر مجھے خیال آیا کہ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ میں معانقہ کروں گا۔چنانچہ سوا سو آدمیوں کے ساتھ میں نے معانقہ کیا اور پھر تقریر کی۔اس موقع پر ان کی زبان بولنے والا کوئی ایسا شخص نہ تھا کہ میری انگریزی زبان کا ترجمہ کر دیتا۔پھر بڑی مشکل پیش آئی۔میں تو بہر حال انگریزی بولتا تھا اور ہمارے مبلغ کو بھی وہ زبان نہیں آتی تھی۔پھر پتہ لگا کہ عربی سمجھنے والے چند ایک ان میں ہیں۔میں نے کہا پھر میں عربی بولوں گا۔پھر تقریر جو کرنی تھی، عربی میں کی ، میں نے۔پھر ترجمہ ہوا ، اس کا۔پھر میں نے معانقہ کیا اور معانقہ سے ان کو جو خوشی ہوئی ، اس کا اندازہ آپ نہیں کر سکتے۔ان میں سے ایک کی تصویر سلائیڈ مولوی عبدالکریم صاحب نے لی، وہ میں اپنے ساتھ لے آیا ہوں، کسی 542