تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 687
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلدسوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اگست 1958ء اسلام کی تبلیغ صرف چند افراد کا نہیں بلکہ ساری جماعت کا فرض ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اگست 1958ء " قرآن کریم میں بعض ایسے الفاظ پائے جاتے ہیں کہ اگر ان کی صحیح تو جیبہ مد نظر نہ رکھی جائے تو دشمنوں کے لئے اعتراض کا موقع پیدا ہو جاتا ہے۔مثلاً یہی آیت، جس کی میں نے تلاوت کی ہے۔اس میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم سب مشرکوں سے قتال کرو۔جیسا کہ وہ سب کے سب تم سے قتال کر رہے ہیں۔اب اس جگہ قبال کے یہ معنی نہیں لئے جاسکتے کہ تلوار لے کر دشمنوں کا مقابلہ کرو۔کیونکہ اول تو آج کل تلوار کی جنگ کا زمانہ ہی نہیں ، اب تو ہوائی جہازوں اور ایٹم بموں کا زمانہ ہے۔اور پھر آج کل کفار مسلمانوں سے تلوار کی کوئی لڑائی نہیں لڑرہے کہ مسلمانوں کے لئے بھی ان سے جنگ کرنا ضروری ہو۔پس اس جگہ قتال کے معنی ظاہری جنگ کے نہیں بلکہ مذہبی مقابلہ اور اسلام کی اشاعت کے ہیں۔اور یہ بات ظاہر ہے کہ مخالفین اسلام ہمیشہ مذہبی وسو سے پیدا کر کے لوگوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔پس قَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً کے معنی یہ ہوئے کہ تم غیر مسلموں میں تبلیغ اسلام کرو۔اور یا درکھو کہ یہ تم میں سے صرف چند افراد کا فرض نہیں بلکہ ساری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اس کام میں حصہ لے۔کافہ کے یہی معنی ہیں کہ کوئی شخص بھی اس حکم کی تعمیل سے باہر نہ رہے۔اگر دس لاکھ احمدی ہیں اور ان میں سے 9لاکھ، ننانوے ہزار نو سو ننانوے آدمی اس فرض کو ادا کرتے ہیں اور صرف ایک شخص تبلیغ نہیں کرتا ، تب بھی جماعت کے لوگ بہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ سارے کے سارے تبلیغ اسلام کر رہے ہیں۔وہ اسی وقت اپنے فرض سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں، جب وہ اس ایک شخص کو بھی اپنے ساتھ شامل کریں۔کیونکہ قرآن کریم کی ہدایت یہ ہے کہ مشرکوں کے مقابلہ میں ساری کی ساری جماعت کو کھڑا ہونا چاہئے اور ہر فرد کوان میں تبلیغ کرنی چاہئے۔میں نے آج سے 25 سال پہلے ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر ساری جماعت سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو تبلیغ کریں گے اور ان کو احمدی بنانے کی کوشش کریں گے۔مگر افسوس ہے کہ ہماری جماعت نے ابھی تک اس عہد کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کی۔وہ لوگ ، جنہوں نے 687