تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 498

اقتباس از پیغام فرموده 11 مارچ 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم - اپنے روحانی باپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ورثہ کو نظر انداز کرتا ہے تو اس پر افسوس ہے۔اس کو تو فیڈرل کورٹ تک نہیں بلکہ عرش کی عدالت تک اپنے مقدمہ کو لے جانا چاہیے اور اپنا ورثہ لے کر چھوڑنا چاہیے۔اگر وہ ہمت نہ ہارے گا، اگر وہ دل نہ چھوڑے گا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ورثہ اس کو ملے گا اور ضرور ملے گا۔صاحب العرش کی عدالت کسی کو اس کے حق سے محروم نہیں کرتی۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی باپ، دنیا کے ظالم دادوں کی طرح اپنے پوتوں کو طبعی حق سے محروم نہیں کرتا۔بلکہ جب وہ اس سے اپیل کرتے ہیں ، وہ ان کے روحانی باپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ورشان کو دیتا ہے۔بلکہ ورثہ کے حصہ سے بھی بڑھ کر دیتا ہے، کیونکہ وہ رحیم، کریم ہے۔اور وہ رحیم ، کریم یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کی روحانی اولاد اپنے ورثہ سے محروم ہو جائے۔سود وستو ابر ھو کہ تمہیں ترقی دی جائے گی ، قربانی کرو کہ تمہیں دائمی زندگی عطا کی جائے گی ، اپنے فرض کو پہچانو کہ خدا تعالیٰ اس سے بڑھ کہ اپنے فرض کو پہچانے گا۔اور جب وہ وقت آئے گا تو نہ صرف تمہارے گھر برکتوں سے بھر جائیں گئے بلکہ ہر وہ گوشت کا لوتھڑا، جو تمہارے جسم سے نکلے گا، اس کو بھی برکتوں کی چادر میں لپیٹ کر بھیجا جائے گا۔اور جو تمہارے ہمسائے میں رہے گا، اس پر بھی برکتیں نازل ہوں گی۔جو تم سے محبت کرے گا، اس سے خدا تعالیٰ محبت کرے گا۔اور جو تم سے دشمنی کرے گا ، اس سے خدا تعالی دشمنی کرے گا“۔"۔۔۔دوستوں کو میں اس طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ قادیان میں ایک امانت فنڈ کی ، میں نے تجویز کی تھی۔اور وہ یہ تھی کہ قادیان کی ترقی کے لئے احباب کثرت سے امانتیں قادیان میں جمع کروا ئیں۔خاص خاص وقت پر اپنی اغراض کے لئے خلیفہ وقت سے جماعت بوقت ضروت کچھ قرض لے لیا کرے گی۔اس سے احباب کا روپیہ بھی محفوظ رہے گا اور بغیر ایک پیسہ چندہ لئے جماعت کے کام ترقی کرتے رہیں گئے۔قادیان میں اس تحریک کے مطابق ترقی کرتے کرتے ستائیس لاکھ روپیہ اس امانت میں پہنچ گیا تھا۔اور بغیر ایک پیسہ کی مدد کے احباب کرام سلسلہ کی خدمت کرنے کی توفیق پا جاتے تھے۔چنانچہ اس تحریک کا نتیجہ تھا کہ پارٹیشن کے بعد جب سارا پنجاب لٹ گیا تو جماعت احمدیہ کے افراد محفوظ رہے۔اور ان کو اس امانت کے ذریعے دوبارہ پاکستان میں پاؤں جمانے کا موقع مل گیا۔اس کی تفصیل کہ کس کس طرح اس روپیہ کو نکالا اور خرچ کیا اور پھر احباب کو واپس کیا ؟ یہ تو جب اس زمانہ کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں تفصیلاً آئے گا۔مگر بہر حال جس طرح جماعت کے افراد اپنے پاؤں پر کھڑے رہے، وہ ظاہر 498