تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 316
خطبہ جمعہ فرموده 10 جولائی 1953ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم والے سے دریافت کرنے کے سوٹا اٹھایا اور زور سے شراب والے مٹکے پر مار کر اسے توڑ دیا اور کہا، پہلے میں شراب کا مٹکا توڑوں گا اور پھر اس سے پوچھوں گا کہ کیا حکم ہے؟ یعنی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام سے ایک بات بیان کی جارہی ہے تو ہمارا فرض ہے کہ پہلے اس پر عمل کریں اور پھر اگر تحقیقا کرنا چاہیں تو بے شک تحقیقات کریں۔غرض زندہ قوموں کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے افراد کے اندر اپنی ذمہ واریوں کا احساس ہو۔ہم نے ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کرنی ہے اور جہاں ہم تبلیغ اسلام کریں گے، وہاں لاز ما مساجد بھی بنانی پڑیں گیں اور اسلام کے نشانات بھی قائم کئے جائیں گے۔اور یہ کام ہماری جماعت کے افراد نے ہی کرنا ہے۔اس لئے سب کا فرض ہے کہ خواہ وہ امیر ہوں یا غریب، اس ذمہ واری کی ادائیگی کے لئے اپنے آپ کو ہر وقت تیار رکھیں۔لیکن اگر ہر شخص چودھری بن جائے اور یہ کہے کہ یہ کام دوسرں نے ہی کرنا ہے، میں نے نہیں کرنا تو یہ کام کس طرح ہوگا؟ پس اپنے اندر قربانی کا مادہ پیدا کرو اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہر وقت زندہ رکھو۔مسلمان صرف چھ ، سات سو تھے ، جب ان کی قربانیوں سے ساری دنیا گونج اٹھی تھی یا کم سے کم عرب کا علاقہ گونج گیا تھا۔اور پھر جب وہ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں ہو گئے تو ساری دنیا ان کی قربانیوں سے گونج اٹھی۔تو اب تو ساٹھ کروڑ مسلمان ہے لیکن دنیا پھر بھی اسلام سے ناواقف ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ آج ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسلام کی اشاعت کی ذمہ داری دوسروں پر ہے، اس پر نہیں۔لیکن جب وہ ہزاروں یالا کھوں کی تعداد میں تھے تو ہر فرد کے دل میں یہ احساس تھا کہ اسلام کو میں نے ہی پھیلانا ہے۔یہی حال ہماری جماعت کا ہے۔ہماری جماعت کی تعداد تھوڑی ہے لیکن اسلام کی اشاعت کی ذمہ واری اس نے اپنے اوپر عائد کی ہوئی ہے۔اور اسلام کی اشاعت یا مبلغوں کے ذریعہ ہوگی اور یا مساجد کے ذریعہ ہوگی۔غیر ممالک میں مساجد کے پاس سے جب بھی گزرنے والے گزریں گے سوال کریں گے کہ یہ کیا عمارت ہے؟ اس پر لوگ انہیں بتائیں گے کہ یہ مسجد ہے۔وہ پوچھیں گے کہ مسجد کیا چیز ہوتی ہے؟ اس پر انہیں بتایا جائے گا کہ عیسائیوں میں گرجے ہوتے ہیں، اسی طرح مسلمانوں نے اپنی عبادت کے لئے مسجدیں بنائی ہوئی ہیں۔اور چونکہ مسجد ان کے لئے ایک بالکل نئی چیز ہوگی ، وہ اس کے دیکھنے کی طرف مائل ہو جائیں گے۔کیونکہ انسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ کوئی نئی چیز آ جائے تو لوگ اس کو دیکھنے کے لئے دوڑ پڑتے ہیں۔آخر یہ تماشا گا ہیں اور سیر گاہیں، جن میں لوگوں کا ہر وقت ہجوم رہتا ہے، یہ کیا چیز ہیں؟ اور کیوں ان کی طرف لوگ کھچے چلے جاتے ہیں؟ صرف اس لئے کہ یہ ایک نئی چیز ہوتی ہے۔آدمی 316