تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 17
زیک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم وو اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 13 فروری 1948ء ہم پھولوں کی پیج پر چل کر دلوں کو فتح نہیں کر سکتے خطبہ جمعہ فرمودہ 13 فروری 1948ء جس شخص کے دل میں خدا تعالیٰ کے احسانات کی یہ عظمت ہو، جس شخص کے دل میں خدا تعالیٰ کے احسانات کی یہ قدر ہو، اس کی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔اگر اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمتیں ملتی ہیں اور وہ ان نعمتوں کو کھاتا ہے تو ان نعمتوں کے کھانے پر اگر کوئی شخص اعتراض کرتا ہے تو وہ کافر ہے، بغیر اس کے کہ وہ خدا کا انکار کرے۔کیونکہ وہ خدا کی صفت کا انکار کرتا ہے۔اور اگر وہ فاقے کرتا ہے اور کوئی دوسرا شخص اس کے فاقے پر یہ اعتراض کرتا ہے کہ کیا یہ بھی خدا کا بندہ ہے، جو فاقے کر رہا ہے؟ تو وہ بھی کافر ہے۔اس لئے کہ اس کی زندگی اپنی زندگی نہیں۔نہ اس کا کھانا اپنا ہے، نہ اس کا پینا اپنا ہے، نہ اس کا جینا اپنا ہے۔وہ کھاتا ہے تو خدا کے لئے کھاتا ہے، وہ پیتا ہے تو خدا کے لئے پیتا ہے، وہ فاقے کرتا ہے تو خدا کے لئے فاقے کرتا ہے۔یہ وہ زندگی ہے، جو ایک مومن کی زندگی ہوتی ہے۔جب تک اس احساس کے ساتھ کوئی شخص خدا کے لئے اپنی زندگی وقف نہیں کرتا ، اس وقت تک وہ ہرگز مومن نہیں کہلا سکتا۔میں ان کو بھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان میں سے زندگیاں وقف کر چکے اور کام کر رہے ہیں اور خصوصا وہ میرے بیٹے ہی ہیں، کہتا ہوں کہ تم بھی میرے خطبوں پر یہ مت خیال کرو کہ تم کو بری سمجھا گیا ہے۔تمہارا اپنے آپ کو وقف کرنا یا کام کرنا، یہ ثابت نہیں کرتا کہ تم خدا کے بندے ہو۔ہو سکتا ہے کہ تم خدا کے بندے نہ ہو بلکہ میرے بندے ہو۔ہو سکتا ہے کہ تم نے خدا کو خوش کرنے کے لئے نہیں بلکہ مجھے خوش کرنے کے لئے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہو۔اس لئے تم بھی اپنے حالات کا جائزہ لو۔اگر اپنی زندگی وقف کرنے کے بعد پھر بھی تمہارے اندر دنیا کی لالچ پائی جاتی ہے، اگر پھر بھی تمہارے اندر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ تمہارا باپ یا تمہاری ماں کس حد تک تمہاری خدمت کرتے ہیں؟ اگر پھر بھی تمہارے قلوب میں بشاشت پیدا نہیں ہوئی بلکہ وقف کے بعد تمہارے اندر مایوسی پیدا ہو جاتی ہے یا امنگ پیدا نہیں ہوتی تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ تم نے جبر کے ماتحت اپنے آپ کو وقف کیا ہوا ہے۔جس طرح زبردستی کا کلمہ پڑھانا کسی کو جنت کا مستحق نہیں بنادیتا، اس طرح زبردستی کا وقف بھی کسی کو خدارسیدہ نہیں بنا سکتا۔17