تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 77

تحریک جدید- ایک ابی تحریک۔۔۔۔جلد سوم - اقتباس از خطبه جمعه فرموده 04 فروری 1949ء اخلاقی لحاظ سے سادہ لوگ ہی خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل ہوتے ہیں وو خطبہ جمعہ فرمودہ 04 فروری 1949ء اب ہمارا غیر بھی سمجھنے لگ گیا ہے کہ ہماری جماعت کو کوئی خاص کام تفویض ہوا ہے لیکن ہماری جماعت ہی اس کام کو نہ سمجھے اور اپنے اندر صحیح تبدیلی پیدا نہ کرے تو اس سے زیادہ بد قسمتی اور کیا ہوگی؟ پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح کرے، اپنے اندر سی تبدیلی پیدا کرے اور اپنے آپ کو سچا مخلص اور سچا مسلم ثابت کرے۔اگر آج تم اپنے اندر تبدیلی پیدا نہیں کرتے اور آج تم اپنی اصلاح نہیں کرتے تو وہ دن کون سا آئے گا، جب تم اپنی اصلاح کرو گے؟ ہر دن جو آتا ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے بعض مر جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے صحابی ہم سے جدا ہورہے ہیں اور آہستہ آہستہ وہ دن آ جائے گا، جب یہ کہا جائے گا کہ کیا تم میں سے کوئی ہے، جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا ہے اور ہمیں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا۔کیا وہ دن ہو گا، جس دن تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو گے؟“ وو ہماری جماعت پر بہت بڑی ذمہ داریاں عائکہ ہیں۔اور ہم ان ذمہ داریوں کو ادا نہیں کر سکتے ، جب تک ہم اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کریں۔اور جب تک ہم اپنے اندر تبد یلی پیدا نہیں کریں گے ، ہم فتح حاصل نہیں کر سکتے۔ہم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کے بعدہی دنیا کو فتح کر سکتے ہیں۔ہم اس وقت ہی فتح حاصل کر سکتے ہیں، جب ہم اپنے آپ کو اس رنگ میں رنگین کر لیں، جس رنگ میں صحابہ رنگین تھے۔جب تک ہم اپنے دلوں کی اصلاح نہ کریں، جب تک ہم اپنے اندر دیانت اور امانت پیدا نہ کریں، جب تک ہم سے جھوٹ اور فریب کی عادت جاتی نہ رہے بلکہ جب تک ہم اپنے اعمال کو سادہ نہیں بنا لیتے ، جب تک ہم اپنے آپ کو سادہ مسلمان نہیں بنا لیتے ، ایسا مسلمان جس کو دوسرے لوگ تو لوٹ سکتے ہیں مگر وہ خود کسی کو نہیں لوشتا، جب تک ہم ایسے مسلمان نہیں بن جاتے ہم دنیا کو فتح نہیں کر سکتے۔دنیا کو وہی لوگ فتح کر سکتے ہیں اور فرشتے انہیں لوگوں پر اترتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں وہی لوگ داخل ہوتے ہیں، جو اخلاقی لحاظ سے اپنے آپ کو سادہ بنا لیتے ہیں اور ان کے اندر بے ایمانی ، جھوٹ اور فریب کی روح نہیں پائی جاتی۔( مطبوعه روزنامه الفضل 16 فروری 1949ء) | 77