تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 719 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 719

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطاب فرموده 28 دسمبر 1960ء اور دوسری کے بعد تیسری نسل اس بوجھ کو اٹھاتی چلی جائے اور قیامت تک اسلام کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا ہرا تار ہے۔اس عظیم الشان مقصد کی سرانجام دہی کے لیے میں نے بیرونی ممالک کے لئے تحریک جدید اور اندرون ملک کے لئے صدر انجمن احمد یہ اور وقف جدید کے ادارے قائم کیے ہوئے ہیں۔دوستوں کو ان اداروں کے ساتھ پورا پورا تعاون کرنا چاہیے اور نو جوانوں کو سلسلہ کی خدمت کے لئے آگے آنے کی تحریک کرنی چاہیے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں سادھو اور بھکاری تک بھی اپنی ساتھی تلاش کر لیتے ہیں، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اگر تم اس عظیم الشان کام کے لئے دوسروں کو تحریک کرو تو تمہارا کوئی اثر نہ ہو۔اس وقت اسلام کی کشتی بھنور میں ہے اور اس کو سلامتی کے ساتھ کنارے تک پہنچانا، ہمارا کام ہے۔اگر ہم اس کی اہمیت کو سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھانے کی کوشش کریں تو ہزاروں نوجوان خدمت دین کے لئے آگے آسکتے ہیں۔ہمیں اس وقت ہر قسم کے واقفین کی ضرورت ہے۔ہمیں گریجوایٹوں کی بھی ضرورت ہے اور کم تعلیم دانوں کی بھی ضرورت ہے تاکہ ہم ہر طبقہ تک اسلام کی آواز پہنچا سکیں۔اگر تم اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھ لو گے تو یقینا اس کشتی کو سلامتی کے ساتھ نکال کر لے جاؤ گئے اور اللہ تعالیٰ تمہیں ابدی حیات عطا فرمائے گا۔تمہارے بعد بڑے بڑے فلاسفر پیدا ہوں گے، بڑے بڑے علماء پیدا ہوں گے، بڑے بڑے صوفیاء پیدا ہوں گے، بڑے بڑے بادشاہ آئیں گے مگر یا درکھو، خدا تعالیٰ نے جو شرف تمہیں عطا فرمایا ہے، بعد میں آنے والوں کو وہ میسر نہیں آسکتا۔جیسا عالم اسلام میں بڑے بڑے بادشاہ گذرے ہیں مگر جو مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک چھوٹے سے چھوٹے صحابی کو ملا، وہ ان بادشاہوں کو نصیب نہیں ہوا۔ان بادشاہوں اور نو جوانوں کو بیشک دنیوی دولت ملی مگر اصل چیز تو صحابہ ہی کے حصہ میں آئی ، باقی لوگوں کو تو صرف چھلکا ہی ملا۔وو بیشک صحابہ کے بعد آنے والوں کو بڑی بڑی دولتیں ملیں ، حکومتوں پر انہیں قبضہ ملا مگر جو روحانی دولت صحابہ کے حصہ میں آئی ، وہ بعد میں آنیوالوں کو نہیں ملی۔پس خدمت دین کے اس اہم موقع کو، جو تمہیں صدیوں کے بعد نصیب ہوا ہے، ضائع مت کرو اور اپنے گھروں کو خدا تعالیٰ کی برکتوں سے بھر لو۔میں نے اپنی خلافت کے ابتدائی ایام میں جب کام شروع کیا تھا تو میرے ساتھ صرف چند ہی نو جوان رہ گئے تھے اور وہ لوگ جو اپنے آپ کو قابل اور ہوشیار سمجھتے تھے، سب لاہور چلے گئے تھے اور ہمارے متعلق خیال کرتے تھے، یہ کم علم اور ناتجربہ کار لوگ ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھو کہ وہی لوگ ، جن کو وہ نا تجربہ کار سمجھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہی سے ایسا کام لیا کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے۔اس وقت میری عمر چھیں 719