تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 57

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 24 ستمبر 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم تحریک جدید کے متعلق بھی میں نے دیکھا ہے کہ سال میں سے نو مہینے گزر چکے ہیں بلکہ ساڑھے نو مہینے گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک دو تہائی چندہ بھی نہیں آیا۔سال میں سے ساڑھے نو مہینے گزرنے کے باوجود بھی تحریک جدید کا چندہ سات ماہ کے چندہ سے کم رہا ہے۔یہ بھی نہایت افسوس ناک امر ہے۔بلکہ دور دوم ، جو کہ نو جوانوں کا دور ہے، جن کے متعلق ہم یقین رکھتے تھے کہ وہ دور اول میں حصہ لینے والے بوڑھوں سے زیادہ تیز چلنے والے ہوں گے، اس کا یہ حال ہے کہ لاکھوں روپے کے وعدے وصولی کے قابل پڑے ہیں۔یہ تو ہم جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا کام بہر حال پورا ہوگا۔مگر یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ قوم کی آئندہ نسل اور پود بجائے آگے بڑھنے کے پیچھے جارہی ہے۔اور یہ نہایت ہی خطرناک بات ہے۔ہر قوم کی نسل کو آگے بڑھنا چاہئے۔جس قوم کی نسل ایمان، ایثار اور قربانی میں پہلوں سے آگے نہیں بڑھتی ، وہ قوم جیتا نہیں کرتی۔قوموں کی جنگ دو، تین سو سال تک رہتی ہے۔اور جب تک کسی قوم کی پندرہ ، ہیں نسلیں اپنے پہلوؤں سے آگے نہ بڑھتی جائیں، اس جنگ کا کامیاب فیصلہ نہیں ہو سکتا۔فرد واحد کی جنگ 30-25 سال تک ہوتی ہے۔مگر قوموں کی جنگ لمبی ہوتی ہے اور اس کے لیے زیادہ قربانی اور ایثار کی ضرورت ہوتی ہے۔ظاہری طور پر جو ہم نے فتح حاصل کی ہے کہ جماعت ایک سے لاکھوں ہوگئی ہے، ظاہری طور پر جو ہم نے فتح حاصل کی ہے کہ ہمارا دس روپے سے لاکھوں روپیہ کا بجٹ ہو گیا ہے، ظاہری طور پر جو ہم نے فتح حاصل کی ہے کہ ہماری جماعت کے افراد ادنی عہدوں سے بڑے عہدوں پر پہنچ گئے ہیں، ظاہری طور پر جو ہم نے فتح حاصل کی ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوان تعلیم میں پہلے سے زیادہ ترقی کر گئے ہیں، ظاہری طور پر جو ہم نے فتح حاصل کی ہے کہ ہمارے مشن اب ساری دنیا میں قائم ہو گئے ہیں، یہ تو اک نسبتی فتح ہے، حقیقی فتح نہیں۔در حقیقت نہ ہم نے افراد میں ترقی کی ہے، نہ اموال میں ترقی کی ہے اور نہ ہی تبلیغ میں ترقی کی ہے۔کیونکہ ہماری ترقی نسبتی ترقی ہے، اس لئے ہماری خوشی اور اطمینان کا موجب نہیں ہو سکتی۔ہمارے لئے خوشی اور اطمینان کا موجب نہیں ہو سکتی۔ہماری آخری جنگ کے دن قریب ہیں اور اس میں ہم اس وقت تک فتح کی امید نہیں کر سکتے ، جب تک ہمارے نوجوان ہم سے زیادہ ایثار کا نمونہ نہ دکھائیں۔بلکہ ہم تب بھی فتح کی امید نہیں کر سکتے ، جب تک ان سے اگلی نسل بھی زیادہ ایثار کا نمونہ نہ دکھائے۔اگر کسی قوم کی کم از کم بارہ نسلیں حقیقی ایثار کا نمونہ نہیں دکھاتیں حقیقی اخلاق کا نمونہ نہیں دکھا ئیں تو اس قوم کوحقیقی فتح حاصل نہیں ہو سکتی۔ہماری جماعت کے ابھی بچپن کے دن ہیں، بڑھاپے کے دن تو ابھی دور ہیں۔ہمارے بعد نو جوانوں نے ہی اسلام کے 57