تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 684 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 684

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جولائی 1958ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد سوم ہمارے وہ مبلغ، جنہوں نے ان علاقوں میں کام کیا، کوئی بڑے تعلیم یافتہ نہیں تھے۔مگر جب وہ خدا تعالیٰ کا نام پھیلانے کے لئے نکل گئے تو خدا نے ان کے کام میں برکت ڈالی۔اور اکیلے اکیلے آدمی نے بڑے بڑے علاقوں پر اثر پیدا کر لیا اور انہیں اسلام کی خوبیوں کا قائل کر لیا۔مگر اب وہ لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ اور آدمی بھی آئیں ، جو ان علاقوں میں تبلیغ اسلام کا کام سنبھالیں۔تا کہ اسلام سارے افریقہ میں پھیل جائے۔اور یہ کام ان نوجوانوں کا ہے، جو ابھی وہاں نہیں گئے۔شروع شروع میں تو ایسے نو جوان بھجوائے گئے تھے، جنہیں عربی بھی اچھی طرح نہیں آتی تھی۔مگر رفتہ رفتہ انہوں نے اچھی خاصی عربی سیکھ لی۔مولوی نذیر احمد صاحب، جنہوں نے وہیں وفات پائی ہے، نیر صاحب کے بعد بھجوائے گئے تھے اور بی ایس سی فیل تھے اور عربی بہت کم جانتے تھے۔مگر پھر انہیں ایسی مشق ہو گئی کہ وہ عربی زبان میں گفتگو بھی کر لیتے تھے اور بڑی بڑی کتابوں کا بھی مطالعہ کر لیتے تھے۔بلکہ آخر میں تو انہوں نے عربی کی اتنی کتا ہیں جمع کر لی تھیں کہ جو اعتراض ہوتا، اس کا جواب وہ فوراً ان کتابوں میں سے نکال کر پیش کر دیتے۔وہاں مالکیوں کا زور ہے اور وہ لوگ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں۔انہوں نے کتابوں میں سے نکال کر دکھا دیا کہ امام مالک بھی یہی کہتے ہیں کہ نماز میں ہاتھ باندھنے چاہئیں۔جس پر وہ لوگ بڑے حیران ہوئے اور انہیں یہ بات تسلیم کرنی پڑی کہ آپ کی بات درست ہے۔اب بھی وہاں سے خط آیا ہے کہ ہمارا ایک مبلغ ، جو مولوی فاضل ہے، اس سے وہاں کے مولویوں نے بحث کی۔وہاں کے علماء عربی زبان خوب جانتے ہیں اور ہمارا یہ مبلغ زیادہ عربی نہیں جانتا تھا۔مگر چونکہ دل میں ایمان تھا، اس لئے مقابلہ کے لئے تیار ہو گیا اور فیصلہ یہ ہوا کہ عربی میں مباحثہ ہو۔چنانچہ عربی زبان میں مباحثہ ہو اور نتیجہ یہ ہوا کہ مخالف مولوی سب بھاگ گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم احمدیوں سے بحث نہیں کر سکتے۔یہ لوگ تو پاگل ہیں، جنہیں ہر وقت مذہبی باتیں کرنے کا ہی جنون رہتا ہے۔تو یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ہمیں کچھ آتا نہیں۔جب انسان خدا تعالیٰ کے دین کی تائید کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے اور وہ کسی قسم کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ خود اس کی مددفرماتا ہے اور اس کی مشکلات کو دور فرما دیتا ہے۔خواجہ کمال الدین صاحب کو ہی دیکھ لو، انہیں نماز پڑھانی بھی نہیں آتی تھی۔مگر رفتہ رفتہ انہوں نے ایسی قابلیت پیدا کر لی کہ مشہور لیکچرار بن گئے۔مولوی محمد علی صاحب بھی گوایم اے ایل ایل بی تھے اور کالج کے پروفیسر تھے ،مگر عربی سے انہیں زیادہ میں نہیں تھا۔لیکن رفتہ رفتہ انہوں نے ایسی ترقی کی کہ قرآن 684