تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 683
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 11 جولائی 1958ء جب انسان دین کی تائید کے لئے کھڑا ہو تو خدا خود اس کی مدد فرماتا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جولائی 1958ء ہماری جماعت کے نوجوانوں کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتابوں میں بار ہا تحریر فرمایا ہے کہ مجھے خدا نے عیسائیت کے استیصال کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔اور یہ کام صرف آپ کی ذات کے ساتھ مخصوص نہیں تھا۔بلکہ آپ کے سپر د اس عظیم الشان کام کے کرنے کے یہ معنی تھے کہ آپ کے بعد آپ کی جماعت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ اس کام کو سنبھالے اور عیسائیت کو مٹانے کی کوشش کرے۔چنانچہ آپ لوگوں میں سے ہی کچھ نو جوان افریقہ گئے اور وہاں انہوں نے عیسائیت کے خلاف ایسی جدوجہد کی کہ یا تو ایک زمانہ ایسا تھا، جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ سارا افریقہ عیسائی ہو جائے گا اور یا آج ہی ایک اخبار میں ، میں نے ایک انگریز خاتون کا مضمون پڑھا، جس میں اس نے لکھا ہے کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ اسلام افریقہ میں بڑی سرعت سے پھیل رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ جماعت، جو پہلے پہل تانگانیکا میں پھیلنی شروع ہوئی تھی ، اب مشرقی افریقہ کے اکثر علاقوں میں پھیلتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔(سنڈے ٹائمنر لنڈن 25 مئی 1958 ء) اسلام کی یہ تبلیغ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے مبلغوں کی وجہ سے ہی ہو رہی ہے۔1927ء میں ہم نے وہاں مشن قائم کئے تھے۔جن پر اب اکتیس سال کا عرصہ گزررہا ہے۔اس عرصہ میں خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کی کوششوں میں ایسی برکت ڈالی کہ اب خود اس انگریز نے تسلیم کیا ہے کہ چار سال کے عرصہ سے پہلے سے دس گنا لوگ مسلمان ہو چکے ہیں۔اگر ہمارے نوجوان یورپ اور افریقہ کے عیسائیوں میں تہلکہ مچاسکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اگر یہاں کوشش کی جائے تو اس جگہ کے عیسائی بھی اسلام کے مقابلہ سے مایوس نہ ہو جائیں۔لارڈ ہیڈ نے ، جو کسی زمانہ میں پنجاب کے گورنر بھی رہ چکے ہیں، جب واپس گئے تو افریقہ میں سے ہوتے ہوئے لندن گئے ، وہاں پہنچ کر انہوں نے ایک تقریر کی ، جس میں کہا کہ میں افریقہ میں اتنا بڑا تغیر دیکھ کر آیا ہوں کہ اب میں نہیں کہہ سکتا کہ مسلمان عیسائیت کا شکار ہیں یا عیسائی اسلام کا شکار ہیں۔683