تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 678
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 10 جنوری 1958ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم بھاگوں گا نہیں۔جب فتح ہوئی تو بادشاہ نے پہچان لیا کہ وہ اس کا وہی بیٹا ہے، جس سے وہ نفرت کیا کرتا تھا۔بادشاہ نے اسے بلایا ، اس کی پیشانی پر بوسہ دیا اور کہا میں نے تم پر بڑا ظلم کیا ہے اور تمہاری بڑی بے قدری کی ہے۔جن کی میں قدر کیا کرتا تھا اور جن سے محبت کیا کرتا تھا وہ تو پیٹھ دکھا کر بھاگ گئے۔لیکن تم میدان میں رہے اور میری جان کی حفاظت کرنے کے لئے آگے آئے۔اس پر اس لڑکے نے کہا، اے باپ! هر چه بقامت کہتر بقیمت بہتر جو شخص قد و قامت اور صورت کے لحاظ سے ذلیل نظر آتا تھا ، وہ قیمت کے لحاظ سے بہت بہتر تھا۔یعنی آپ تو مجھے چھوٹے قد کا آدمی سمجھ کر نفرت سے دیکھا کرتے تھے۔لیکن آپ کو معلوم ہو گیا کہ جو قدو قامت اور صورت میں ذلیل نظر آتا تھا، قیمت کے لحاظ سے وہی بہتر تھا۔یہ تو ایک آدمی کا قصہ ہے۔لیکن ہماری جماعت بھی گو تعداد کے لحاظ سے بہت تھوڑی ہے اور بقامت کہتر کی مصداق ہے، لیکن بقیمت بہتر ہے۔امریکہ یورپ اور باقی ساری دنیا میں اسلام کا جھنڈ اوہی گاڑ رہی ہے۔اور باقی مسلمان ، جن کو علماء نے اپنے سروں پر اٹھا رکھا ہے، انہوں نے بیرونی ممالک میں کسی مسجد کی ایک اینٹ بھی نہیں لگوائی۔اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے یورپ میں ہماری تین مسجدیں بن چکی ہیں۔اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہمارا منشا ہے کہ تھوڑے عرصہ میں ہی ایک اور مسجد بھی بنادی جائے۔ایک مسجد امریکہ میں بنانے کا میں نے آرڈر دے دیا ہے۔ایک مسجد لنڈن میں بنی ہے، ایک مسجد ہیگ میں بنی ہے، ایک مسجد ہمبرگ (جرمنی) میں بنی ہے، ایک فرینک فورٹ (جرمنی) میں بن رہی ہے۔جب یہ مسجد بن گئی تو انشاء اللہ ایک مسجد ہنوور ( جرمنی ) میں بنائی جائے گی۔پھر ایک زیورچ میں بنے گی ، پھر ایک روم میں بنے گی ، پھر ایک نیپلز میں بنے گی، پھر ایک جنیوا میں بنے گی اور پھر ایک وینس میں بنے گی اور اس طرح یہ سلسلہ ترقی کرتا چلا جائے گا۔بہر حال ہماری جماعت اس وقت بقامت کہتر اور بقیمت بہتر کی مصداق ہے، جو ہر جگہ مسجد میں بنارہی ہے۔مسلمان ہمارے متعلق کہتے ہیں کہ ہم ان کے مقابلہ میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔مولوی ظفر علی خان صاحب اب تو فوت ہو گئے ہیں اور ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ سے ہے، جب وہ زندہ تھے تو بڑی حقارت سے لکھا کرتے تھے کہ یہ لوگ مسلمانوں میں سو میں سے ایک بھی نہیں۔وو۔۔۔ہالینڈ میں، میں نے دریافت کیا تھا، وہاں تین ہزار روپیہ فی ایکٹر آمد ہوتی ہے۔اگر تین ہزار فی ایکٹر آمد ہو تو دس ایکڑ سے تمہیں ہزار آمد ہوسکتی ہے۔اگر سو مربع ہمیں اس سکیم میں مل جائے تو 75 678