تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 677 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 677

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 10 جنوری 1958ء مجھے یقین ہے کہ وہ وقت آگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد آسمان سے اترے گی " خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جنوری 1958ء ہماری جماعت کی حالت کا نقشہ سورۃ انفال رکوع 2 میں کھینچا گیا ہے اور اس نقشہ کو شیخ سعدی نے ایک حکایت کے رنگ میں اپنی کتاب ” گلستان میں بیان کیا ہے۔ہم بچپن میں وہ شعر پڑھا کرتے تھے تو بہت مزہ آیا کرتا تھا۔یوں تو جب ہم بڑے ہوئے تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ہمیں مثنوی مولا نا روم بھی پڑھائی تھی۔مگر وہ زمانہ جب ہمیں مثنوی مولانا روم پڑھائی گئی ، 11 ء یا 12 ء کا زمانہ تھا۔اور گلستان اور بوستان اس سے پہلے زمانہ میں ہمیں شروع کرائی گئی تھیں۔شیخ سعدی نے گلستان میں ایک کہانی لکھی ہے کہ ایک بادشاہ تھا، جس کے کئی بیٹے تھے۔اس کے اور تو سب بیٹے نہایت خوبصورت تھے اور بادشاہ ان سے بہت محبت کیا کرتا تھا لیکن ایک لڑکا بہت چھوٹے قد کا تھا اور اس کی شکل بھی نہایت مکروہ تھی، اس سے وہ سخت نفرت کیا کرتا تھا۔ایک دفعہ ایک بادشاہ جو اس سے دشمنی رکھتا تھا اور جس کی طاقت بہت زیادہ تھی، اس پر حملہ آور ہوا۔جب اس کی فوج نے اس بادشاہ کے دائیں اور بائیں بڑے زور سے حملہ کیا تو اس کی ساری فوج بھاگ گئی اور میدان جنگ میں صرف چند آدمی بادشاہ کے ساتھ رہ گئے۔جب بادشاہ نے دیکھا کہ اب دشمن مجھے بھی حملہ کر کے قید کر لے گا تو یکدم صفوں کو چیرتا ہوا ایک سوار نکلا ، جس نے اپنے ہاتھ میں نیزہ پکڑا ہوا تھا۔وہ پوری ہمت کے ساتھ اپنے دائیں اور بائیں نیزہ چلاتا ہوا آ رہا تھا۔جس کی وجہ سے دشمن کی فوج تتر بتر ہوگئی۔پھر اس نے بادشاہ کی بچی کچھی فوج کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن فوج بھاگ گئی۔وہ شخص حملہ کرتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا، آں نہ من باشم که روز جنگ بینی پشت من اں منم کاندرمیان خاک و خوں بینی سرے یعنی میں وہ نہیں ہوں کہ جنگ کے دن تو میری پیٹھ دیکھے۔بلکہ جنگ کے دن تو صرف میرا منہ دیکھے گا، میری پیٹھ نہیں دیکھے گا۔اور اگر کوئی شخص مجھ سے میرا حال پوچھنا چاہے تو میں اسے یہ بتا تا ہوں کہ سب میں لڑائی میں آؤں گا تو وہ میرے سر کو خاک اور خون میں لتھڑا ہوا پائے گا۔یعنی میں قتل ہو جاؤں گا، لیکن 677