تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 56

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 ستمبر 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم میں اس نے لکھا تھا کہ آپ جس رنگ میں تبلیغ کر رہے ہیں، وہ بے فائدہ ہے۔آپ مبلغ تو باہر بھیج دیتے ہیں مگر انہیں کافی سامان نہیں دیتے۔جس کی وجہ سے ان کی صحتیں برباد ہو جاتی ہیں اور وہ صیح طور پر کام نہیں کر سکتے۔میں نے اس چیز کا خود تجربہ کیا ہے۔میں دو، تین سال ملایا میں رہا ہوں اور آپ کے مبلغین کی حالت کو دیکھا ہے۔میں باوجو د سلسلہ احمدیہ کی عظمت کو تسلیم کرنے کے اور اس کی تبلیغی مساعی سے متاثر ہونے کے ، یہ عرض کروں گا کہ آپ مبلغین کو اتنا کھانا ضرور دیں، جس سے وہ اپنی صحتوں کو قائم رکھ سکیں۔یہ چٹھی ایک ایسے شخص نے لکھی ہے، جس کا احمدیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔گویا ایک غیر احمدی بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ہم مبلغین کو اتنا خرچ نہیں دے رہے، جو ان کی محنتوں کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔غرض تبلیغ کے لیے روپیہ کی بھی ضرورت ہے۔پھر تعلیم کا کام ہے، وہ بھی بغیر روپیہ کے نہیں ہو سکتا۔پہلے زمانہ میں روپیہ کی بہت کم قیمت تھی۔اس زمانہ میں ایک پڑھا لکھا آدمی ایک جگہ پر بیٹھ جاتا تھا اور وہ دوسروں کو پڑھا دیا کرتا تھا۔وہ یہ کام مفت ہی کر دیا کرتا تھا۔ہاں تعلیم حاصل کرنے والے اس کی تھوڑی بہت خدمت کر دیتے تھے۔لیکن اس زمانہ میں اور اس زمانہ بہت فرق ہے۔اس زمانہ میں اگر ایسے آدمی کی بیوی کسی مجلس میں چلی جاتی تھی اور اس کے پاس کپڑے اچھے نہیں ہوتے تھے تو اسے اس کا احساس نہیں ہوتا تھا۔کیونکہ اس کے اور دوسری عورتوں کے کپڑوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ امیر آدمی روپیہ سے اچھے لباس خرید سکتا ہے۔لیکن اس وقت کپڑے ہوتے ہی نہیں تھے۔اس زمانہ میں جو بھی کپڑے ہوتے تھے ، نہایت معمولی ہوتے تھے۔بہر حال جب وہ عورت اپنے ہمسائیوں سے ملتی تھی تو اس میں احساس ذلت پیدا نہیں ہوتا تھا۔وہ اپنے خاوند کے گلو گیر نہیں ہوتی تھی کہ اس نے اپنے علم کو ضائع کر دیا۔مگر اب اتنا فرق پیدا ہو چکا ہے کہ اگر کوئی اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لیے وقف کرے تو اس کے بیوی بچے اس کے گلے کا ہار بن جاتے ہیں کہ اس نے انہیں ذلیل کروا دیا ہے۔وہ دوسروں میں ادنی سمجھے جاتے ہیں۔خدا نے اسے علم دیا ہے، اگر وہ آمدن پیدا کرتا تو وہ بھی دوسروں کے شانہ بشانہ بیٹھ سکتا تھا اور ہمیں بھی بٹھا سکتا تھا۔یہی حال باقی کاموں کا ہے۔میں نے جماعت کے دوستوں سے خصوصیت سے کہا تھا کہ ہم قادیان میں سلسلہ کی ساری جائیدادیں چھوڑ آئیں ہیں، اس لئے ان دنوں سلسلہ کو زیادہ امداد کی ضرورت ہے۔پھر ہم صرف سامان اور جائیداد میں ہی نہیں چھوڑ آئے بلکہ جماعت کے لاکھوں آدمی ایسے ہیں، جو گزشتہ فسادات کی وجہ سے سلسلہ کی اتنی مددنہیں کر سکتے جتنی وہ پہلے کر سکتے تھے۔پس یہ زمانہ ایسا ہے، جس میں ہمیں زیادہ قربانیاں کرنی ہوں گی۔56