تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 675 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 675

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطاب فرمودہ 26 اکتوبر 1957 ء ہم نے بھی پین کو نظر انداز نہیں کیا۔چنانچہ دوسری جنگ عظیم کے معا بعد ہم نے اپنے مبلغ کرم الہی ظفر کو سپین بھجوادیا تھا۔میرے بچے طاہر اور محمود، جو ولایت گئے ہوئے تھے، واپس آتے ہوئے ، سپین بھی گئے تھے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ پین کے نو مسلم بہت زیادہ مخلص ہیں ، وہ خوب سوچ سمجھ اسلام قبول کرتے ہیں اور پھر اس پر اپنی جانیں فدا کرتے ہیں۔مجھے بھی اس کا ایک نمونہ لنڈن میں نظر آیا تھا۔1954 ء سے قبل کا ایک سپینش نومسلم ڈاکٹر لنڈن کے قیام کے دوران مجھے ملا۔وہ اس وقت لنڈن میں سو میل کے فاصلے پر کسی جگہ پریکٹس کرتا ہے۔اس نے جب سنا کہ میں لنڈن میں آیا ہوں تو وہ مجھے ملنے کے لئے وہاں آیا۔اس نے مجھے بتایا کہ کرم الہی ظفر نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے کہ اس نے ہمیں اسلام جیسی نعمت دی۔پھر میں نے وہاں چھوٹے درجہ کی ڈاکٹری پاس کی تھی۔اس نے مجھے تحریک کی کہ میں لنڈن چلا جاؤں اور وہاں اپنی تعلیم کومکمل کروں۔چنانچہ میں اس کی تحریک کے مطابق لنڈن آ گیا ، یہاں آکر میں نے اپنی تعلیم کی تکمیل کی اور اس وقت میری پریکٹس بڑی اچھی ہے۔میں لنڈن سے سومیل کے فاصلہ پر کام کرتا ہوں، اس لئے میں روزانہ لنڈن نہیں آسکتا۔اس سے بھی پتا لگتا ہے کہ ان لوگوں میں اخلاص پایا جاتا ہے اور وہ قربانی کرنے والے ہیں۔میرا تو یہ ارادہ تھا کہ کرم الہی ظفر کو روم بھجوادیا جائے۔اب بچوں کی شہادت کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ کرم الہی ظفر کو سپین میں ہی رہنے دیں اور روم میں کسی اور مبلغ کو بھجوادیں۔پہلے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی یہ تجویز تھی کہ میڈرڈ والے روم کی زبان کو خوب سمجھتے ہیں اگر کرم الہی ظفر مرکز پر بوجھ ہوں تو انہیں روم بھجوا دیا جائے ، یہ وہاں جا کر بھی سپین والوں کو تبلیغ کر سکیں گے۔لیکن اب چونکہ پتہ لگا ہے کہ پین والے نو مسلم بڑے مخلص اور ترقی کرنے والے ہیں، اس لئے اب یہی ارادہ ہے کہ کرم الہی ظفر کو وہیں رہنے دیں اور روم میں کسی اور مبلغ کو بھجوا دیا جائے۔صرف اخراجات میں تخفیف کر دی جائے۔لیکن ہم پہلے بھی اپنے مبلغوں کو بہت کم خرچ دیتے ہیں۔چنانچہ ملایا سے مجھے ایک غیر احمدی دوست نے ایک دفعہ خط لکھا کہ آپ اپنے مبلغوں کو اتنا خرچ تو دیں کہ جس سے وہ شریفانہ طور پر کھانا کھا سکیں اور اچھا لباس پہن سکیں۔بعد میں وہ مجھے کوئٹہ میں ملا تو اس نے کہا ، کیا آپ کو میرا خط مل گیا تھا؟ میں نے کہا مل گیا تھا۔پھر اس نے دریافت کیا کہ کیا آپ نے میرے اس خط پر عمل بھی کیا؟ میں نے کہا ہم غریب لوگ ہیں، ہم اس پر کیا عمل کریں ؟ اس نے کہا، میں نے ملایا سے خطا تو لکھا دیا تھا۔لیکن میں نے نیت کر لی تھی کہ میں واپس جاؤں گا تو ذاتی طور پر بھی آپ سے ملوں گا اور زبانی عرض کروں گا کہ آپ کے مبلغ بڑی جانفشانی سے کام کر رہے ہیں۔لیکن آپ انہیں کھانے 675