تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 666 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 666

خطبہ جمعہ فرموده 10 مئی 1957ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم یہ کتاب ، جو ایک اٹالین عورت نے لکھی ہے ، بڑی اعلیٰ ہے۔میں نے ساری تو نہیں پڑھی۔اس کی تمہید کی چند سطروں پر نظر پڑی تو وہاں لکھا تھا کہ قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے، جواب تک اسی طرح موجود ہے، جس طرح نازل ہونے کے وقت تھی۔اب تک اسلام کے دشمن عیسائی، یہودی اور دوسرے مذاہب والے بھی اسے اسی طرح لیتے آئے ہیں اور مسلمان بھی اسے اسی طرح لیتے آئے ہیں۔یہی ایک کتاب ہے، جس میں نہ غیروں کو کوئی تبدیلی کرنے کا موقع ملا ہے اور نہ اپنوں کو۔یہ چند تمہیدی سطور پڑھنے سے معلوم ہوا کہ کتاب کی مصنف قرآن کریم کی صداقت کی قائل ہے۔اس کتاب کو چھپوا کر دو، تین لاکھ کی تعداد میں امریکہ کے رؤساء اور بڑے بڑے عہد یداروں میں تقسیم کیا جائے تو اس کا بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔اگر اسے شروع شروع میں ایک ہزار کی تعداد میں بھی تقسیم کیا جائے تو اس پر قریباً پانچ ہزار ڈالر خرچ آئے گا۔مجھے اس کی صحیح قیمت کا تو علم نہیں۔میں نے خود ہی اندازہ لگایا ہے۔ویسے ہم امریکہ سے پتہ کریں گے کہ اس کی قیمت کیا ہے؟ اور اس کی اشاعت پر کیا خرچ آئے گا ؟ اگر اس کتاب کی اشاعت کی جائے تو عیسائیوں کو پتہ لگ جائے گا کہ ان کی اپنی ایک عورت، جو نہایت قابل اور تعلیم یافتہ تھی اور کالج میں پروفیسر تھی ، اسلام کے متعلق کیا خیال رکھتی ہے۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس کتاب کے مترجم نے یا کسی اور نے اس عورت کو خط لکھا کہ اگر تمہارے اسلام کے متعلق ، وہ خیالات درست ہیں، جو اس کتاب میں لکھے گئے ہیں تو تم ابھی تک مسلمان کیوں نہیں ہوئیں؟ تو اس عورت نے جواب دیا کہ اگر میں مسلمان ہو جاتی تو میری اس کتاب کا عیسائیوں پر زیادہ اثر نہ ہوتا۔اب تو وہ سمجھتے ہیں کہ میں انہی میں سے ایک ہوں اور اسلام کا مجھ پر اتنا اثر ہے کہ میں یہ خیالات ظاہر کرنے پر مجبور ہوگئی ہوں۔یہ کتاب 1925ء میں لکھی گئی تھی۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس کتاب کی خوب اشاعت کی جائے تو امریکہ میں اسلام کا اچھا اثر پڑے گا۔بلکہ امریکہ تو الگ رہا، میں سمجھتا ہوں ، وہ وقت دور نہیں ، جب ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا اور وہ اسلام کی سچائی اور عظمت کی قائل ہو جائے گی“۔مطبوعه روزنامه الفضل 18 مئی 1957 ء ) 666