تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 664 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 664

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03 مئی 1957ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم مساجد بن جاتی ہیں۔میں نے ایک دن گنا تھا کہ صرف جرمنی میں دس، بارہ مساجد کی ضرورت ہے۔اگر اتنی مساجد وہاں بن جائیں تو تھوڑے ہی عرصہ میں وہاں کئی ہزار مسلمان ہو جائیں۔جرمنی میں انگلستان اور دوسرے یوروپین ممالک کے مقابلہ میں ، میں نے یہ خوبی دیکھی ہے کہ وہاں جو احمدی ہوتا ہے ، وہ چندہ بھی دیتا ہے۔یہ بات دوسرے ملکوں میں نہیں۔مثلاً سویٹزرلینڈ میں دس، دس سال سے بعض احمدی ہوئے ہیں لیکن وہ چندے نہیں دیتے۔لیکن جرمنی میں جب میں گیا تو ایک شخص مجھے ملنے آیا، اب وہ فوت ہو گیا ہے، اس کے پاس شراب کا ایک بڑا کارخانہ تھا، جو اسے باپ کی طرف سے ورثہ میں ملا تھا۔اس نے مجھ سے فتویٰ پوچھا کہ میرے پاس شراب کا ایک کارخانہ ہے، کیا میں اسے چھوڑ دوں؟ میں نے کہا، وہ کارخانہ تم نے تو نہیں بنایا، تمہارے باپ کی طرف سے ورثہ میں تم کو ملا ہے۔تم آہستہ آہستہ اس سے اپنا روپیہ نکالو اور اسے کسی اور کارخانہ میں لگاتے جاؤ، فورا نہ چھوڑو۔ہمارے مبلغ نے اس کے متعلق بتایا کہ وہ دو پونڈ ماہوار با قاعدہ چندہ دیتا ہے۔اب وہ فوت ہو گیا ہے تو خدا تعالیٰ نے وہاں پھر ایک نیا احمدی بنایا۔اس کے متعلق بھی اطلاع آئی ہے کہ وہ ایک پونڈ ماہوار چندہ دیتا ہے۔اب وہ یہاں اپنی بیوی سمیت آ رہا ہے اور اس نے لکھا ہے کہ وہ ایک اور احمدی دوست کے ساتھ ترکی اور ایران سے ہوتا ہوا، پاکستان آئے گا۔شاید تمبر میں وہ یہاں پہنچ جائے۔کہتے ہیں کہ اس کے اندر اتنا اخلاص ہے کہ آنے سے پہلے اس نے اپنی جگہ پر انتظام کر دیا ہے کہ اس کے دوست اور رشتہ دار اس کا با قاعدہ چندہ دیتے رہیں۔گویا وہ چھ ماہ کا عرصہ جو باہر رہے گا، اس میں اس نے انتظام کر دیا ہے کہ ایک پونڈ ماہوار چندہ با قاعدہ جماعت کو ملتا ہے۔ایک پونڈ ماہوار کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں مگر دس ہیں ہزار احمدی ہو جائیں اور اس طرح دس ہیں ہزار پونڈ ماہوار چندہ آ جائے تو اس سے ہر ماہ ایک مسجد بن سکتی ہے“۔( مطبوعه روزنامه الفضل 11 مئی 1957 ء ) 664