تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 651
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلدسوم اقتباس از تقریر فرموده 29 مارچ 1956ء وہ دن قریب آرہے ہیں، جب خدا تعالی کامیابی کے راستے کھول دے گا تقریر فرمود و 29 مارچ 1956ء بر موقع مجلس شوری اب شوری کا ایجنڈا پیش ہو گا۔میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید دونوں کے بجٹ 25, 25 لاکھ روپیہ تک پہنچ جائیں۔جب تک ان دونوں اداروں کے بجٹ 25, 25 لاکھ تک نہیں پہنچ جاتے ،اس وقت تک نہ تو پاکستان میں صحیح طور پر کام ہو سکتا ہے اور نہ ہی بیرونی ممالک میں صحیح طور پر کام کیا جا سکتا ہے۔اور اگر کوشش کی جائے تو یہ کوئی مشکل امر نہیں۔میں نے بتایا تھا کہ اگر باہر کے ممالک کے زمیندار زیادہ آمد پیدا کرتے ہیں تو کیوں ہمارے زمیندار بھی اپنے بچوں کے لئے نہیں، اپنی آسائش اور سہولت کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی خاطر زیادہ آمد پیدا نہ کریں؟ اس وقت ہماری جماعت کے پاس کم سے کم ایک لاکھ ایکڑ زمین ہے۔اگر ہماری زمین کی سالانہ آمد فی ایکڑ سات سورو پیر تک پہنچ جائے ، جو ہالینڈ کی آمد کا چوتھا حصہ اور اٹلی کی آمد سے نصف سے بھی کم ہے تو جماعت کی کل آمد سات کروڑ روپیہ بن جاتی ہے۔اس سات کروڑ میں سے ایک آنہ فی رو پیر کے حساب سے بھی احمدی زمیندار چندہ دیں تو 44لاکھ کے قریب روپیہ آجاتا ہے۔اور اگر سلسلہ کی زمینوں کی آمد کو اس میں شامل کر لیا جائے تو یہ رقم بڑی آسانی سے پچاس لاکھ روپیہ سالانہ تک پہنچ جاتی ہے۔اب تم اندازہ لگا لو کہ اگر ہماری جماعت کا سالانہ بجٹ پچاس لاکھ روپیہ تک پہنچ جائے تو ہمارے پھیلنے کی رفتار کتنی تیز ہو جائے گی۔اس وقت باہر سے جو خبریں آرہی ہیں، وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی خوشکن اور حوصلہ افزاء ہیں۔چنانچہ جب بھی ڈاک میرے پاس آئی ہے، وہ کوئی نہ کوئی خوشخبری اپنے ساتھ لائی ہے۔ملایا سے خبر آئی ہے کہ وہاں ایک بڑے افسر نے احمدیت قبول کرلی ہے۔مگر ساتھ ہی اس نے کہا ہے کہ میری بیعت کو فی الحال مخفی رکھا جائے۔کیونکہ مجھے امید ہے کہ تھوڑے ہی عرصہ میں میں ملک میں کوئی اہم پوزیشن حاصل کرلوں گا۔اس طرح جرمن میں ہمبرگ یونیورسٹی کے ایک مشہور پروفیسر ہیں، جو مشرقی زبانوں کے ماہر ہیں۔یونیورسٹی نے انہیں اسلام پر ایک کتاب لکھنے کے لئے بھی مقرر کیا ہے۔انہوں نے ایک جرمن رسالہ 651