تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 632
خطبہ جمعہ فرموده 26 اکتوبر 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اب اگر وہ ربوہ آکر تعلیم حاصل کریں گے تو ان کے یہاں قیام کے اخراجات بھی دینے پڑیں گے اور ایک طرف کا کرایہ بھی دینا پڑے گا۔اس طرح 30-25 ہزار روپیہ کا خرچ اور بڑھ جائے گا۔غرض ہمارا اشاعت اسلام کا کام ہر روز بڑھے گا اور اخراجات بھی بڑھیں گے۔جو آپ کو بہر حال برداشت کرنے پڑیں گے۔ہمارے ملک میں ایک مثال ہے اور وہ بڑی کچی ہے کہ اونٹ شور مچاتے ہی لا دے جاتے ہیں۔اسی طرح تم بھی چاہے کس قدر شور مچاؤ تمہیں تبلیغ کا کام بہر حال کرنا پڑے گا۔اس سے تمہارا پیچھا نہیں چھوٹے گا۔کیونکہ جب تم احمدی ہوئے تھے تو تم نے مان لیا تھا کہ نحن خيرامة ہم بہترین امت ہیں۔اور اگرتم بہترین امت ہو تو تمہیں وہ کام کرنا پڑے گا، جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہترین امت کا بیان کیا ہے۔یا تو تم کہ دو کہ ہم اچھے نہیں، ہم سے عیسائی اور یہودی اچھے ہیں۔اور یا یہ کہو کہ ہم اچھے ہیں۔اور اگر تم اچھے ہو تو تمہیں اشاعت اسلام کا کام بھی کرنا پڑے گا۔اس تمہید کے بعد میں تحریک جدید کے نئے سال کے چندہ کا اعلان کرتا ہوں اور تحریک کرتا ہوں کہ دوست زیادہ سے زیادہ اس میں چندہ لکھوائیں۔اور پھر اسے جلد ادا کرنے کی کوشش کریں تا کہ پچھلا بوجھ بھی اترے اور آئندہ سال تبلیغ کا کام بہتر طور پر ہو سکے اور خدام اور انصار کے ذمہ لگا تا ہوں کہ وہ سارے دوستوں میں تحریک کر کے زیادہ سے زیادہ وعدے جلد سے جلد بھجوائیں۔اور خدا کرے کہ نومبر کے آخر تک ان کو وعدوں کی لسٹیں پورا کرنے کی توفیق مل جائے اور دسمبر کے آخر میں تحریک جدید یہ اعلان کر سکے کہ اس کی ضرورتیں پوری ہو گئی ہیں۔پچھلے سال میں نے تحریک جدید کا بجٹ بڑی احتیاط سے بنوایا تھا۔لیکن پھر بھی پتہ لگا ہے کہ تحریک جدید پر صیغہ امانت اور بعض دوسری مدات کا دولاکھ ، چالیس ہزار روپیہ قرض ہے۔اس لئے قربانی اور ہمت کی ضرورت ہے، مگر گھبراؤ نہیں۔خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی مالی حالت بہتر بنائے اور تمہیں مزید لاکھوں بھائی عطا فرمائے ، جن کے ساتھ مل کر تم اس بوجھ کو آسانی کے ساتھ اٹھا سکو۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہمارے زمیندار ہی یورپ کے زمینداروں کی طرح محنت کریں تو ہماری آمد میں سو گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔یورپ کے بعض ممالک میں فی ایکٹر تین، تین ہزار روپیہ آمد ہے۔اور ہماری جماعت کے پاس ڈیڑھ لاکھ ایکڑ سے زیادہ زمین ہے۔اگر ہمارے زمینداروں کی آمد بھی تین تین ہزار 632