تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 631 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 631

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرموده 26 اکتوبر 1956ء بیٹی کوکسی احمدی وکیل سے بیاہا جاسکتا ہے اور نہ ہر روز نواب رضوی پیدا ہو سکتا ہے، جس سے اس کی خفیہ طور پر شادی ہو جائے اور وہ اسے اپنی جائیداد کا ایک بڑا حصہ دے دے۔اور نہ نظام حیدر آباد سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ نواب رضوی کو نالش کی دھمکی دے اور پھر نواب رضوی کو اپنا مقدمہ لڑنے کے لئے خواجہ کمال الدین صاحب جیسا آدمی مل جائے اور وہ اسے انگلستان بھجوا دے اور اسے ایک سال کے قیام کا خرچ اور سفر کے اخراجات بھی دے دے۔یہ بہت دور کا اتفاق ہے، جو ہزاروں سال کے بعد ہی میسر آسکتا ہے۔لیکن یہاں تو روزانہ مبلغ بھیجوانے ہوں گے اور روزانہ مبلغ بھجوانے کے لئے تحریک جدید ہی کام دے سکتی ہے۔وہی تحریک جدید جس نے ساری دنیا کی تبلیغ کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ تحریک جدید کے دفاتر کے کام پر میں خوش ہوں۔ہالینڈ کی مسجد کو ہی لے لو، میرے نزدیک اگر تحریک جدید کے افسر احتیاط سے کام لیتے تو ایک لاکھ، پندرہ ہزار روپے میں مسجد بن جاتی اور عورتوں پر زیادہ بوجھ نہ پڑتا۔لیکن بہر حال تحریک جدید کے ذریعہ ایک نہایت اہم اور قابل تعریف کام ہورہا ہے اور جماعت کو اسے ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور اس میں حصہ لینا چاہئے تا کہ وہ تبلیغ اسلام کو ساری دنیا میں پھیلا سکے۔اس سال سیکنڈے نیویا میں ایک نیا مشن کھولا گیا ہے۔اور ایسے سامان پیدا ہورہے ہیں کہ شاید ہمیں اپنے خرچ پر کچھ اور مبلغ بھی امریکہ بھجوانے پڑیں۔کیونکہ امریکہ میں مبلغوں کی بڑی مانگ ہے۔لیکن امریکن احمدی ان کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔بلکہ امریکن جماعت کا چندہ امریکہ کے موجودہ مبلغوں کا خرچ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔اگر چہ مغربی ممالک میں سے امریکہ ہی ایک ایسا ملک ہے، جو ایک حد تک تبلیغ کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔وہاں کے مشن کا خرچ ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ کے قریب ہے لیکن وہ قریباً دو تہائی بوجھ اٹھا رہا ہے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں جماعت تھوڑی ہے۔امریکہ کی جماعت کے کل 500 افراد ہیں اور ظاہر ہے کہ 500 افراد کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ کا بوجھ برداشت کرنا مشکل ہے۔اس لئے لازمی طور پر ہمیں بھی ان کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔اگر اور مبلغ گئے تو اور خرچ ہوگا۔پھر ایک اور علاقہ میں بھی تبلیغ کے رستے کھل رہے ہیں اور کچھ وقت کے بعد وہاں با قاعدہ مشن قائم کیا جا سکے گا۔اسی طرح چین سے ایک بڑے عالم کا عربی اور انگریزی میں خط آیا ہے، جس میں اس نے اپنے ملک میں احمدیت کی اشاعت کی طرف توجہ دلائی ہے۔فلپائن میں بھی بعض نوجوان لٹریچر کے ذریعہ احمدی ہوئے ہیں اور تازہ اطلاع آئی ہے کہ وہاں طلباء کی ایک انجمن ہے، جس کے آٹھ ممبر لٹر پیچر کے ذریعہ احمدی ہو گئے ہیں۔اور ان میں سے بعض نے دین کی اشاعت کے لئے اپنی زندگی بھی وقف کی ہے اور وہ ربوہ آکر تعلیم 631