تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 51

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 اگست 1948ء پادشاہوں کے نوکروں جیسی بھی نہیں تھی۔پس جب دنیوی اقتدار حاصل ہو جاتا ہے، اس وقت یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اس میں نیکوں کو ہی حصہ ملے۔خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ اس وقت ختم ہو جاتا ہے۔پس جماعت کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر ایک خاص قسم کی تبدیلی پیدا کرے۔جب بھی دنیا میں کوئی مامور آتا ہے تو ابتدائی زمانہ میں اس کے ماننے والوں میں سے ہر ایک دین کا سپاہی ہوتا ہے، جو اپنی جان دین کے لئے پیش کر دیتا ہے۔اس کا بدلہ کیا ملتا ہے؟ حضرت ابوھریرہ ایک غریب آدمی تھے ، ان کے بھائی میں بھی اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اپنے بھائی کو ، جو دین کی خاطر سب کچھ چھوڑ کر بیٹھ گیا تھا، وہ کھانا دے سکے۔لیکن ابو ھریرۃ کو صرف ابو ھریرۃ ہی نہیں کہتے۔بلکہ بڑے سے بڑا بادشاہ بھی جب آپ کا نام لے گا تو ساتھ رضی اللہ عنہ کہے گا۔ایک مزدور، چکی پینے والے، گدھے چلانے والے اور اونٹ لا دنے والے صحابی کا بھی آج جب نام لیا جاتا ہے تو ساتھ رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے۔لیکن بڑے سے بڑے بادشاہ کا جب نام لیا جاتا ہے تو کوئی اسے رضی اللہ عنہ نہیں کہتا۔اکبر، جو بہت بڑا بادشاہ گذرا ہے، اس کے نام کے ساتھ کوئی رضی اللہ عنہ نہیں کہتا۔مگر حضرت ابو ھریرۃ کا جب بھی نام لیا جاتا ہے تو ساتھ رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے۔وہ ابوھریرۃ جس کو سات سات وقت کا فاقہ ہو جاتا تھا، جس کی بعض دفعہ بھوک کی وجہ سے ایسی حالت ہو جاتی تھی کہ مرگی کا دورہ سمجھ کر آپ کو لوگ جو تیاں مارا کرتے تھے، وہ تو رضی اللہ عنہ کہلاتا ہے مگر اکبر، بابر، ہمایوں ، شاہ جہاں، عالمگیر ، تیمور وغیرہ بادشاہوں کا نام جب لیا جاتا ہے تو ان کے ساتھ کوئی بھی رضی اللہ عنہ نہیں کہتا۔یہ ان صحابہ کی قربانیوں کا نتیجہ تھا، جو انہوں نے اسلام کے ابتدائی زمانہ میں کی تھیں۔انہوں نے دنیا کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا، اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے انہیں بادشاہ کر دیا۔اب بڑے سے بڑا بادشاہ بھی ان کی برتری کا اقرار کرتا ہے۔ہر زمانہ کے لئے الگ الگ انعام اور ذمہ داریاں ہیں۔ہم اس وقت کی ابتدائی جماعت ہیں۔ہماری حالت بالکل الگ ہے۔بعد میں زمانہ، اور تقاضہ کرے گا۔ہوسکتا ہے کہ بعد میں اگر کوئی نمازیں پڑھ لے یا چندہ دے دے تو خدا تعالیٰ اسے بڑا بزرگ سمجھ لے۔لیکن جب تک ہم تلوار کی دھارے کے نیچے اپنی گردنوں کو نہیں رکھتے ، جب تک آروں کے نیچے آکر ہم نہیں چیرے جاتے ، ہم اس انعام کے مستحق نہیں ہو سکتے۔جماعت کے ہر آدمی پر ایک جنون سا ہونا چاہیے اور وہ یہ کہ جو بوجھ خدا تعالیٰ نے اس کے کندھوں پر ڈالا ہے، وہ اسے پورا کرے۔( مطبوعه روزنامه الفضل 18 ستمبر 1948ء) 51