تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 618
خطبہ جمعہ فرموده 29 جون 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ہمارا بھی یہی حال ہے۔اب تو ہمارا صدرانجمن احمدیہ کا بجٹ چودہ ، پندرہ لاکھ کا ہے اور تحریک جدید کا بجٹ بھی بارہ، تیرہ لاکھ کا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں یہ کیفیت تھی کہ کئی مقامات پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ لکھا ہے کہ اب تو ہم پر اتنا بوجھ ہے کہ پندرہ سو روپیہ ایک مہینہ کا خرچ ہے۔گویا اس زمانہ میں اٹھارہ ہزار روپیہ کا سالانہ خرچ تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسے بڑا بوجھ قرار دیتے تھے۔لیکن اس زمانہ میں بعض ایسے احمدی ہیں کہ ان میں سے ایک ایک اس بوجھ کو آسانی کے ساتھ اٹھا سکتا ہے۔اس وقت بعض دفعہ ایسی حالت ہوتی تھی کہ لنگر میں آٹار کھا ہوتا تھا اور منتظمین کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں روپیہ کی درخواست کرنی پڑتی تھی۔1905ء میں جب زلزلہ آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کچھ عرصہ کے لئے باغ میں تشریف لے گئے تو مجھے خوب یاد ہے، ایک دن آپ باہر سے آئے تو اللہ تعالی کی بڑی حمد وثنا کر رہے تھے۔اس وقت آپ نے حضرت اماں جان کو بلایا اور فرمایا، یہ گھڑی لے لو اور دیکھو کہ اس میں کتنی رقم ہے؟ حضرت ام المومنین نے کمرہ سے باہر نکل کر بتایا کہ اس کپڑے میں چار سویا پانچ سو کی رقم ہے۔آپ نے فرمایا، آج ہی لنگر والے آٹے کے لئے روپیہ مانگ رہے تھے اور میرے پاس کوئی روپیہ نہیں تھا اور میں حیران تھا کہ اس کا کیا انتظام ہو گا؟ اتنے میں، میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک غریب آدمی، جس نے میلے سے کپڑے پہنے ہوئے تھے، آیا اور اس نے یہ گٹھڑی مجھے دے دی۔میں نے سمجھا کہ اس میں پیسے ہی ہوں گے لیکن اب معلوم ہوا کہ روپے تھے۔اس پر آپ دیر تک اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرتے رہے کہ اس نے کیسا افضل نازل فرمایا ہے۔بیشک اس وقت ہماری نگاہ میں چار سو روپیہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔لیکن اس وقت ہم ان چیزوں کو دیکھتے تو ہمارا ایمان تازہ ہوتا تھا۔اور اب ہمیں اس سے سینکڑوں گنے زیادہ روپیہ ملتا ہے اور وہ روپیہ ہمارے ایمانوں کو بڑھاتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ مجھے اپنی عمر میں بعض غیر احمدیوں نے دو دو، تین تین ، چار چار ہزار روپیہ نذرانہ کے طور پر دیا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں یہ حالت تھی کہ آپ کو چار سو روپیہ ملا تو آپ نے سمجھا کہ شاید اس میں پیسے ہی ہوں گے ورنہ اتنا روپیہ کون دے سکتا ہے؟ آج اگر وہی زمانہ ہوتا تو وہ لوگ جو اس وقت افسوس کر رہے ہیں، ان کو بھی قربانی کا موقع مل جاتا۔اور ہر شخص قربانی کر کے سمجھتا کہ مجھے خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت کا موقع عطا فرما کر مجھ پر احسان فرمایا ہے۔لیکن وہ زمانہ تو گزر گیا، اب پھر ایک دوسرا زمانہ آگیا ہے۔جس میں خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے دین کی خدمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کر رہا ہے۔618