تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 617 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 617

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرموده 29 جون 1956ء مطلب یہ ہے کہ جب آپ نے ایک شخص کا بازو پکڑا ہے تو پھر اس بازو پکڑنے کی لاج بھی رکھنا اور اسے چھوڑ نا نہیں۔وہ کہنے لگا، مرزا صاحب آپ یہ بتائیں کہ آپ کا اس سے مقصد کیا ہے؟ انہوں نے کہا، اس کی 125 ایکڑ زمین تھی ، جو گورنمنٹ نے ضبط کرلی ہے۔آپ لوگ مغل بادشاہوں کے قائم مقام ہیں اور مغل بادشاہوں کا یہ طریق تھا کہ وہ ہزاروں ایکڑ زمین لوگوں کو انعام کے طور پر دے دیا کرتے تھے۔اب یہ غریب حیران ہے کہ ہم پر عجیب لوگ حاکم بن کر آگئے ہیں کہ میرے پاس جو پہلے 125 ایکڑ زمین تھی، و بھی انہوں نے ضبط کرلی ہے۔اس پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے اسی وقت اپنے میر نشی کو بلایا اور اسے کہا کہ ابھی یہ بات نوٹ کر لو اور آرڈر دے دو کہ اس شخص کو زمین واپس دے دی جائے۔036 اسی طرح خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھنا بھی ہاتھ پھڑے دی لاج رکھنے والی بات ہوتی ہے۔جس طرح کمشنر نے اس میراثی کی بانہہ پکڑنے کے بعد اس کی لاج رکھی، اسی طرح خدا، جس کی بانہ پکڑے، اس کی بھی وہ لاج رکھ لیتا ہے۔صرف اتنی بات ہے کہ انسان اپنی کم حوصلگی کی وجہ سے بعض دفعہ گھبرا جاتا ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ جب دینے پر آتا ہے تو ایسے ایسے رستوں سے دیتا ہے کہ حیرت آتی ہے۔اب تو ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی ترقی کر گئی ہے اور ہماری مثال حضرت عائشہ | والی ہوگئی ہے۔جب مدینہ میں پہلی دفعہ ہوائی چکیاں آئیں اور باریک آٹا پسنے لگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ ازواج مطہرات میں سے سب سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ آنا تحفہ پیش کیا جائے۔چنانچہ مدینہ میں سب سے پہلے یہ آٹا، حضرت عائشہ کے گھر بھجوایا گیا اور اس کے پھلکے تیار کئے گئے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ اس سے پہلے پتھر پر دانے کوٹ کر دلیہ سا بنالیا جاتا تھا اور اس کی روٹی تیار کی جاتی تھی۔جب پہلی دفعہ نرم اور ملائم آٹے کی روٹی پکا کر حضرت عائشہ کے سامنے پیش کی گئی تو آپ نے اس میں سے ایک لقمہ تو ڑ کر اپنے منہ میں ڈالا اور پھر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگ گئے۔ایک عورت ، جو پاس بیٹھی ہوئی تھی ، وہ کہنے لگی ، بی بی آپ روتی کیوں ہیں؟ روٹی تو بڑی ملائم اور نرم ہے اور ہم نے اس آٹے کی بڑی تعریف سنی ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ، میں اس لئے نہیں روئی کہ آٹا خراب ہے۔بلکہ مجھے اس روٹی کو دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ یاد آ گیا ہے۔ہم اس زمانہ میں دانوں کو پتھروں سے کچل کر دلیہ سا بنا لیتی تھیں اور اس کی روٹیاں رسول کریم صلی اللہ وسلم کوکھلایا کرتی تھیں۔آخری عمر میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضعیف ہو گئے تو آپ کے لئے روٹی چبانا بڑا مشکل ہو گیا تھا۔پس مجھے اس روٹی کو دیکھ کر رونا آ گیا اور مجھے خیال آیا کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی یہ چکیاں ہوتیں تو میں آپ کو اس آٹے کی روٹی پکا کر کھلاتی۔617