تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 600 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 600

خطبه جمعه فرمودہ 09 مارچ 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم والے کو رشتہ مل جاتا ہے تو انہیں کیوں نہیں مل سکتا ؟ وجہ صرف یہی ہے کہ باڈی گارڈ تو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہیں کسی شریف گھرانے کی لڑکی مل جائے تو کافی ہے۔لیکن واقف زندگی کہتا ہے کہ مجھے کوئی جرنیل یا گورنر جنرل لڑکی دے ، تب میں شادی کروں گا، ورنہ نہیں۔اور جب وہ اپنی قیمت حد سے زیادہ لگاتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اسے نا کام کرتا ہے۔پس جب باڈی گارڈوں کو بھی رشتے مل جاتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ واقفین کو رشتے نہ ملیں۔کیونکہ ایک واقف کی حیثیت باڈی گارڈ سے بہت زیادہ ہے۔وہ عربی کا گریجوایٹ ہوتا ہے اور اس کا اعزاز باڈی گارڈ سے سو گنے زیادہ ہوتا ہے۔پھر اس کی آمد بھی زیادہ ہوتی ہے۔باڈی گارڈ کی تنخواہ میں ترقی بھی ہوگی تو وہ - 751 روپے سے زیادہ نہیں بڑھے گی۔لیکن واقفین کی تنخواہیں ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار تک جاسکتی ہے۔پھر اگر ان میں سے کسی کا بیرونی مبلغ کے طور پر انتخاب ہو گیا یا مرکز میں ناظر یا نائب ناظر کے عہدہ پر تقرر ہو گیا تو ان کی تنخواہ تین تین، چار چار سو روپیہ تک بھی جاسکتی ہے۔پس حقیقت یہی ہے کہ واقفین کو رشتے ملتے ہیں لیکن بعض اوقات وہ اپنی نادانی کی وجہ سے خود انہیں رد کر دیتے ہیں۔پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ جماعت کے امراء کو تحریک کی جائے کہ وہ اپنے ایک، ایک لڑکے کی زندگی دین کی خدمت کے لئے وقف کریں۔اس سے بھی جماعت میں واقفین کا اعزاز بڑھے گا اور نو جوانوں کو وقف کی تحریک ہوگی۔اس بات کا جواب میں پہلے بھی دے چکا ہوں کہ یہ بالکل غلط ہے۔جماعت میں مجھ سے زیادہ ادب اور کس شخص کا ہے؟ میں نے اپنے سب بیٹوں کی زندگیاں وقف کر دیں ہیں۔اگر اس سے واقفین کا اعزاز نہیں بڑھا اور جماعت کو وقف کی طرف توجہ نہیں ہوئی تو اور کون سا احمدی ہے، جو اپنا لڑ کا دین کی خدمت کے لئے وقف کر دے تو جماعت میں واقفین کا اعزاز بڑھ جائے گا اور لوگوں کو وقف کی طرف توجہ پیدا ہو جائے گی ؟ پھر ایک شخص نے اس بات کی تحریک کی ہے کہ عیسائیوں کی طرح تبلیغ کی خاطر ایسے نوجوانوں کو لیا جائے ، جو مجردانہ زندگی بسر کرنے کے لئے تیار ہوں۔مگر یہ جائز نہیں۔اس لئے ہم اسے اختیار نہیں کر سکتے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شادی کے بعد عورتیں بعض اوقات ایسے مطالبات کر دیتی ہیں، جو مبلغ پورا نہیں کر سکتے اور اس کے نتیجہ میں ازدواجی زندگی تلخ ہو جاتی ہے۔لیکن ہم اس تجویز پر عمل نہیں کر سکتے۔اسلام نے تجرد کی زندگی بسر کرنے سے منع کیا ہے۔اور جس کام کو اسلام نے جائز قرار نہیں دیا، اسے ہم اسلام کی خدمت کے لئے کس طرح جاری کر سکتے ہیں؟ پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ واقفین کو کوئی نہ کوئی فن سکھانا چاہئے۔یہ بات نہایت معقول ہے۔میں نے بعض واقفین کو زمیندارہ کام سکھانے کی ہدایت دی ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ اچھا کام 600