تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 592
خطبه جمعه فرموده 09 مارچ 1956ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کمانے میں لگا ہوا ہوں۔پس ماں باپ کی باتیں بڑا اثر پیدا کرتی ہیں اور ان کی عدم توجہی کے نتیجہ میں بہت سی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔لیکن توجہ بھی اسی وقت اثر کرتی ہے، جب ماں باپ کو کسی عارضی جوش کے نتیجہ میں دین کی خدمت کا احساس نہ ہوا ہو بلکہ مستقل طور پر یہ فرض انہیں بے چین رکھتا ہو اور وہ ہمیشہ اپنی اولا د کو اس طرف توجہ دلاتے رہتے ہوں۔اور جو ماں باپ صرف وقتی جوش کے نتیجہ میں اس طرف توجہ کرتے ہیں، وہ بعد میں نہ صرف اپنے عہد پر قائم نہیں رہتے بلکہ ان کی اولاد میں بھی دین کی خدمت کا احساس نہیں رہتا۔میں نے عموماً دیکھا ہے کہ جب کسی کا چھوٹا بچہ شدید بیمار ہوجاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اے اللہ! تو اسے شفا دے دے۔اگر تو اپنے فضل سے اسے شفا دے دے گا تو میں اسے دین کی خدمت کے لئے وقف کردوں گا۔مگر جب وہ بڑا ہو جاتا ہے تو انہیں یاد ہی نہیں رہتا کہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے کیا عہد کیا تھا ؟ اور وہ اسے دنیا کے کاموں پر لگا دیتے ہیں۔اسی طرح بعض والدین مجھے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہمارے سب بچے دین کے لئے وقف ہیں۔مگر جب وہ بچے جوان ہو جاتے ہیں تو انہیں دنیوی کاموں پر لگا دیتے ہیں۔میں شمار کرنے لگوں تو باوجود اس کے کہ بیماری کی وجہ سے میرا حافظہ کمزور ہو گیا ہے، اب بھی میں ہیں، پچھیں آدمیوں کا نام لے سکتا ہوں ، جنہوں نے اپنے بچوں کو دین کی خدمت کے لئے وقف کیا تھا لیکن اب وہ سب کے سب دنیا کمانے میں لگے ہوئے ہیں۔اور انہیں یاد ہی نہیں آتا کہ کسی وقت انہوں نے اپنے سب بچوں کو دین کی خدمت کے لئے وقف کیا تھا۔پھر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں، جو کہتے ہیں ، حضور ! ہمارے دو بچے ہیں اور وہ دونوں وقف ہیں۔لیکن جب وہ بڑے ہو جاتے ہیں اور دین کی خدمت کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو ان کا خط آ جاتا ہے کہ ہم نے اپنے دو بچوں کو وقف کیا تھا لیکن ان میں سے جو کچھ ہوشیار ہے، وہ تو ہماری بات ہی نہیں مانتا اور جو ہوشیار نہیں، وہ ہماری بات تو مانتا ہے لیکن چونکہ اس کی صحت کمزور ہے، اس لئے اس کی زندگی وقف کرنے کا بظاہر کوئی فائدہ نہیں۔پھر سالہا سال گزر جاتے ہیں، نہ ان کا ہوشیارلڑ کا دین کی خدمت کے لئے آگے آتا ہے اور نہ کمزور کو دین کی خدمت میں لگایا جاتا ہے۔ان کا یہ طریق عمل ایسا ہی ہوتا ہے، جیسے لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی پٹھان تھا، وہ ایک کھجور کے درخت پر چڑھ گیا۔کھجور کا درخت ستر ، اسی فٹ اونچا ہوتا ہے اور پھر اس کی کوئی شاخ بھی نہیں ہوتی کہ اس کا سہارا لے کر اس پر چڑھا جا سکے یا اس سے اترا جا سکے۔وہ کسی نہ کسی طرح اس پر چڑھ تو گیا۔لیکن جب اس نے نیچے دیکھا تو ڈر گیا اور اس نے سمجھا کہ اگر میں گر گیا تو میری ہڈی پسلی ٹوٹ جائے گی۔اس پر کہنے لگا کہ 592