تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 531
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 ستمبر 1955ء روپیہ کی تھیلی میرے سامنے لاکر رکھ دی اور کہا کہ ابھی اور بہت سے گاہک موجود ہیں، اگر آپ کہیں تو ہیں، چھپیں ہزار روپی بھی آسکتا ہے؟ غرض اللہ تعالیٰ دینے پر آتا ہے تو اس طرح دیتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔پس مت سوچو کہ تمہاری اولادیں کیا کھائیں گی اور کہاں سے ان کے لئے رزق آئے گا؟ ہمیں تو یہ فکر رہتی ہے کہ ہمیں جو کچھ خدا نے دیا ہے، یہ ہماری اولادوں کی تباہی کا موجب نہ ہو جائے۔ہمیں یہ فکر نہیں کہ وہ کھائیں گے کہاں سے؟ ہمیں تو یہ فکر ہے کہ وہ کہیں اپنے کھانے پینے میں ہی نہ لگ جائیں اور خدا اور اس کے دین کو بھلا نہ بیٹھیں۔میں نے بتایا ہے کہ شروع میں میری یہ حالت تھی کہ میں دس روپیہ کا نوکر بھی نہیں رکھ سکتا تھا۔مگر اب سندھ کی زمینوں پر جو میرے ملازم کام کر رہے ہیں، ان کی چار ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ ہے۔کجا یہ کہ دس روپیہ کے نوکر پر میری جان نکلتی تھی اور کجا یہ کہ اب چار ہزار روپیہ ماہوار میں انہیں دیتا ہوں۔یہ روپیہ آخر کہاں سے آیا؟ خدا نے ہی دیا، ورنہ میرے پاس تو کچھ نہ تھا۔جب ہم قادیان سے آئے ہیں، اس وقت ہیں ہیں ہزار روپیہ پر ایک، ایک کنال فروخت ہورہی تھی۔اور اگر ساری جائیداد فروخت کرنے کا ہمیں موقع ملتا تو وہ کروڑوں روپیہ کی مالیت کی تھی۔پس اللہ تعالیٰ جب دینے پر آتا ہے تو ایسے ایسے رستوں سے دیتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی میں اپنے سب بچوں سے کہا کرتا ہوں کہ تم اس روپیہ کو دیکھ کر بھی یہ دھوکہ نہ کھاؤ کہ یہ تمہاری کوشش اور جدوجہد کے نتیجہ میں تمہیں حاصل ہو رہا ہے۔تمہیں جو کچھ مل رہا ہے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل مل رہا ہے۔اگر آپ کا یہ دعوی نہ ہوتا کہ میں مامور ہوں اور آپ کی وجہ سے قادیان کو تقدس حاصل نہ ہوتا تو کیا تم سمجھتے ہو کہ پھر بھی وہاں ہیں ، ہیں اور چھپیں، چھپیس ہزار کو ایک، ایک کنال فروخت ہوا کرتی ؟ یہ قیمت اس لئے بڑھی کہ لاہور اور سیالکوٹ اور گجرات اور بمبئی اور کلکتہ سے لوگ آئے اور وہاں انہوں نے اپنی رہائش کے لئے زمینیں خریدنی شروع کر دیں۔اور وہ اگر وہاں آکر آباد ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کی وجہ سے۔پس کبھی یہ خیال نہ کرو کہ تم اپنے روپیہ سے بڑھ رہے ہو۔تمہیں خدا اپنے پاس سے رزق دے رہا ہے۔پس تم خدا کا شکر ادا کرو اور اس بات کو یا درکھو کہ دنیا نے تم کو نہیں پالنا ، خدا نے تم کو پالنا ہے۔تم اپنے اندر دین کی خدمت کا احساس پیدا کرو اور سمجھ لو کہ ہر دنیوی پیشہ کے ساتھ تم دین کی بھی خدمت کر سکتے ہو، بشر طیکہ تم مشورہ کے لئے صحیح آدمی کا انتخاب کرو۔531