تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 522
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 ستمبر 1955ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم رخنے پڑ گئے تھے، اس کی سفیدی اتر چکی تھی، اس کی اینٹیں اپنی جگہ چھوڑ چکی تھیں اور اس کی چھت میں بڑے بڑے سوراخ ہو چکے تھے۔خدا تعالیٰ نے اسلام کی عظیم الشان عمارت کی مرمت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا اور آپ کو اس قلعہ کا پاسبان مقر فر مایا۔تا کہ اسلام کی یہ گرتی ہوئی عمارت پھر اپنی بنیادوں پر استوار ہو جائے اور دشمن کے حملے ناکام ہو جائیں۔چنانچہ آپ آئے اور آپ نے نئے سرے سے اس عمارت کے فرش اور دیواروں پر سیمنٹ کر دیا ، اس کے اندر دوبارہ سفیدی کر دی، اس کے تمام سوراخ بند کر دئیے اور اسے پھر ایک مضبوط قلعہ کی شکل میں تبدیل کر دیا۔اب کسی کی طاقت نہیں کہ اسلام کی دیوار کو گرا سکے۔پھر خدا نے اس عمارت کی صرف مرمت ہی نہیں کی بلکہ ایک نئی فوج بھی تیار کر دی، جو قلعہ کی حفاظت کے لئے اس کے سامنے کھڑی ہے۔اب دشمن کی مجال نہیں کہ وہ اس قلعہ کی طرف بڑھے اور اس پر حملہ کر سکے۔کیونکہ اس قلعہ کے محافظین کے دلوں میں خدا اور اس کے رسول کی محبت ہے، وہ اس کی رضا کے لئے اپنے وطنوں کو چھوڑتے ہیں اور غیر ملکوں میں سالہا سال تک رہ کر دین کی اشاعت کے لئے جدو جہد کرتے ہیں۔ہمارے مبلغین میں ایسی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ انہوں نے اسلام کی اشاعت کے لئے اپنی زندگی وقف کی اور شادی کے چند ہفتہ بعد ہی غیر ممالک میں چلے گئے۔چونکہ میاں بیوی اگر ایک دن بھی اکٹھے رہیں تو حمل ہو جاتا ہے، اس لئے ان کے پیچھے ہی بچے پیدا ہوئے اور وہ سالہا سال تک اپنے باپ کی شکل دیکھنے کو ترستے رہے۔ایک مبلغ، جو شادی کے معابعد تبلیغ اسلام کے لئے چلے گئے تھے، ان کا بچہ ان کے جانے بعد پیدا ہوا اور پھر بڑے ہو کر سکول میں تعلیم حاصل کرنے لگا۔جب وہ دس سال کا تھا تو ایک دن وہ سکول سے اپنے گھر آیا اور اپنی ماں سے کہنے لگا کہ اماں لڑکے جب سکول میں آتے ہیں تو کہتے ہیں، ہمارا ابا یہ لایا، ہمارا ابا وہ لایا، میرا بھی کوئی اہا ہے یا نہیں؟ اس طرح حکیم فضل الرحمان ، جو حال ہی میں میرے پیچھے فوت ہوئے ہیں، وہ شادی کے تھوڑی عرصہ بعد ہی مغربی افریقہ میں تبلیغ اسلام کے لئے چلے گئے اور تیرہ چودہ سال تک باہر رہے، جب وہ واپس آئے تو ان کی بیوی کے بال سفید ہو چکے تھے اور ان کے بچے جوان ہو چکے تھے۔میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ آج جمعہ کے بعد میں حکیم فضل الرحمان صاحب ، مولوی عبد المغنی خان صاحب اور ماسٹر محمد حسن صاحب آسان کی نماز جنازہ پڑھوں گا۔مولوی عبد المغنی خان صاحب بھی ان لوگوں میں سے تھے، جنہوں نے ابتدائی زمانہ میں اپنی زندگی وقف کی۔وہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قادیان میں ہجرت کر کے آگئے اور پھر 522