تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 521
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 ستمبر 1955ء جو شخص سچا اور حقیقی مبلغ ہوتا ہے، وہ دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 23 ستمبر 1955ء دیکھو، خدا جس طرح صحابہ کا تھا، اسی طرح تمہارا ہے۔اس نے جب دیکھا کہ بعد میں آنے والوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہوں گے، جن کے دلوں میں ایمان ہوگا اور وہ چاہیں گے کہ ان کے لئے بھی صحابیت کا رستہ کھولا جائے تو اس نے ان کے دلوں کا بھی خیال رکھا اور فرمایا:۔وَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْ بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَيكَ مِنْكُمْ کہ وہ لوگ جو ان کے بعد ایمان لائیں گے اور ہجرت کریں گے اور اسلام کی خدمت کے لئے جہاد کریں گے، وہ بھی تم میں ہی شامل ہوں گے۔دیکھو، اللہ تعالیٰ نے کس طرح تمہارے صحابی ہونے کا رستہ کھول دیا ہے۔ضرورت یہ ہے کہ تم اپنے اندر پختہ ایمان پیدا کرو۔خدا تعالیٰ کے دین کے لئے اپنے وطنوں کو چھوڑنے کے لئے تیار رہو اور جہاد پر کمر بستہ رہوں۔مگر یہ یا درکھو کہ ہر زمانہ میں جہاد کے طریق الگ الگ ہوتے ہیں۔جو شخص اپنے زمانہ کے حالات کے مطابق دین کے جہاد میں حصہ لیتا ہے، وہ انہی برکتوں سے حصہ پاتا ہے ، جن برکتوں سے پہلے لوگوں نے حصہ پایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہی دیکھ لو، آپ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ جہاد کے منکر ہیں اور اپنا مقام بہت بڑا بتاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس الزام کے جواب میں یہی لکھا ہے کہ میں جہاد کا منکر نہیں۔صرف اتنی بات ہے کہ میں اس وقت تلوار سے نہیں بلکہ قلم کی نوک سے جہاد کر رہا ہوں۔جہاد کی غرض یہی ہے کہ اسلام دنیا پر غالب آجائے۔اگر کسی وقت قلم سے اسلام غالب آ جاتا ہے تو قلم چلانے والا ہی مجاہد ہے۔چونکہ اس زمانہ میں دشمنان اسلام کی طرف سے تلوار سے نہیں بلکہ قلم سے اسلام کو مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے، اس لئے میں بھی تلوار سے نہیں بلکہ قلم کی نوک سے جہاد کر رہا ہوں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وہی کچھ قلم سے دے دیا، جو پہلوں کو تلوار کے نتیجہ میں ملا تھا۔جیسا کہ میں نے پچھلی دفعہ بھی کہا تھا، اب اسلام کی بنیاد کو دوبارہ استوار کیا جارہا ہے۔کیونکہ بارشوں اور طوفانوں کی کثرت کی وجہ سے اسلام کی عمارت میں کمزوری پیدا ہو چکی تھی ، اس کی دیواروں میں 521