تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 507
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 09 ستمبر 1955ء کہ بے شرموں تم نے تو بیوی نہیں بنا، بیوی تو ہم نے بنا ہے۔تم کون ہوتے ہو، اعتراض کرنے والے؟ اگر یہ ظلم ہے تو اس کی شکایت ہمیں ہونی چاہئے۔تم تو مرد ہو، تمہیں کیوں شکایت ہے؟ پھر میں کہتی ہوں کہ اسلام میں تو یہ بھی حکم ہے کہ انصاف سے کام لو۔اگر مرد انصاف کریں تو مجھے یاکسی اور عورت کو اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ وہ دو چھوڑ ، دس عورتیں کر لیں۔تمہارا کیا حق ہے کہ تم اس پر شور مچاؤ ؟ میں نے یہی واقعہ اس کو سنایا تو وہ کہنے لگا، آپ ہالینڈ کی بات کرتے ہیں، میں لنڈن میں سے دس ہزار عورت ایسی دیکھا سکتا ہوں ، جو اس بات کے لئے تیار ہے کہ مرد اگر انصاف سے کام لیں تو بے شک وہ کئی شادیاں کر لیں۔لیکن مشکل یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اخلاق اتنے بگڑ چکے ہیں کہ اچھے خاوند میسر ہی نہیں آتے۔اب دیکھو، یہ کتنا بڑا اتغیر ہے، جو ان میں پیدا ہو رہا ہے۔اسی طرح کئی لوگ مجھے ملے ، جنہوں نے کہا کہ ہم نے ہیں ہیں ہمیں تھیں سال سے شراب نہیں پی۔یہ کتنا عظیم الشان انقلاب ہے، جو ان میں پیدا ہوا ہے۔پہلے کثرت ازدواج پر اعتراض کیا جاتا تھا اور اب کہتے ہیں کہ یہی اسلام کی بڑی خوبی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ شادیوں کی تعلیم دیتا ہے۔پہلے اس پر اعتراض تھا کہ پردہ کیوں کیا جاتا ہے؟ اور اب اس پر اعتراض ہے کہ ساری عمر نہیں بلکہ ایک منٹ کے لئے بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی کسی بیوی کا پردہ کیوں اتارا؟ غرض وہی چیزیں ، جو پہلے اعتراض کا موجب بھی جاتی تھیں، اب خوبی کا موجب سمجھی جانے لگی ہیں۔اور ان میں ایسے لوگ پیدا ہور ہے ہیں، جو ان کی تائید کرتے ہیں۔جرمنی میں جب گورنمنٹ نے مجھے ریسپشن دیا تو ہمارے ساتھیوں کے ساتھ ایک ایک وزیر بیٹھ گیا اور باتیں کرنے لگا۔ان کے ملک میں یہ دستور ہے کہ جو کام سب سے زیادہ اہم ہو ، وہ جس وزیر کے سپرد ہو، اسی کو پرائم منسٹر سمجھا جاتا ہے۔چونکہ یہ ریسپشین میری خاطر تھا، اس لئے انہوں نے جس وزیر کو میرے ساتھ بیٹھایا، وہ وزیر تعمیرات تھا۔پہلے تو مجھے اس پر تعجب ہوا، مگر پھر انہوں نے بتایا کہ چونکہ آج کل ہم سب سے زیادہ زور تعمیر پر خرچ کر رہے ہیں اور ہمارے ملک کی طاقت کا بیشتر حصہ تعمیرات پر صرف ہو رہا ہے، اس لئے اب وزیر تعمیرات ہی ہم میں سے سب سے بڑا اور یہ سمجھا جاتا ہے۔وہ باتوں باتوں میں پوچھنے لگے، جماعت کی کتنی تعداد ہے اور آپ کے کتنے مشن اس وقت قائم ہیں؟ جب انہیں بتایا گیا کہ ہماری اتنی تعداد ہے اور اس قدر مشن ہیں۔تو انہوں نے تعجب کے ساتھ کہا کہ جماعت اس سے زیادہ مشن کیوں نہیں کھولتی ؟ میں نے انہیں بتایا کہ اب ہمارا ارادہ ہے کہ اپنے مشنوں کو بڑھائیں اور اس بارہ میں جلد کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔غرض جرمنی میں اسلام کی اشاعت کا ایک وسیع میدان پایا جاتا ہے اور ان میں اسلام کی طرف رغبت اور شوق کا احساس نظر آتا ہے۔507