تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 499
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد سوم اقتباس از پیغام فرموده 11 مارچ 1955 ہے۔اگر اب بھی دوست میری بات کو مانیں گئے تو انشاء اللہ بڑی بڑی برکتیں حاصل کریں گے۔انہی اغراض کے ماتحت روپیہ جمع کرانا ہوگا، جو میں نے اوپر بیان کی ہیں تحریک ،صدر انجمن احمد یہ اور میں انشاء اللہ ذاتی طور پر امانتوں کے واپس کر نے ذمہ دار ہوں گئے۔جس طرح پہلے دور میں ذمہ دار تھے۔اور ایک، ایک پیسہ احباب کو ادا کر دیا تھا۔روپیہ کا گھر میں پڑے رہنا یا سونے کی صورت میں عورتوں کے پاس رہنا، قومی ترقی کے لئے روک ہے۔اس لئے اپنی اولادوں کی ترقی کی خاطر، ان کی تعلیم اور پیشوں کی ترقی کی خاطر، اپنی آمدن میں سے تھوڑی ہو یا بہت، پس انداز کرنے کی عادت ڈالیں اور امانت کے طور پر تحریک جدید یا صدرانجمن کے خزانہ میں جمع کراتے رہیں اور اس کا نام امانت خاص رکھیں۔یہ امانت اوپر کے بیان کردہ اغراض کے لئے ہو گئی۔صرف اتنا فرق ہوگا کہ جو شخص اپنی امانت میں سے دس ہزار روپے یا اس سے زائد لینا چاہے، اسے عام طور پر سات دن کا نوٹس دینا ہو گا۔مگر یہ ضروری نہیں ، امانت داروں کی ضرورت کے مطابق فوری روپیہ بھی ادا کر دیا جائے گا۔مگر جو لوگ چند سو یا ہزار لینا چاہیں ، ان کو بغیر کسی نوٹس کے فوری طور پر رو پیدا دا ہو جائے گا۔میں امید رکھتا ہوں کہ سلسلہ کی تمام خواتین اور مرد میری اس تحریک پر لبیک کہیں گئے اور بغیر پیسہ خرچ کرنے کے دین و دنیا کے لئے ثواب عظیم کمائیں گئے۔اور انشاء اللہ یہ امانت ان کی مالی ترقی کا بھی موجب بنے گی اور اس کے لئے سکیم آئندہ بنائی جائی گی۔چونکہ یہ ایک مؤقت امانت ہوگی، جس کے لئے آٹھ دن کے نوٹس کی شرط ہوگی۔یہ قرضہ بن جائے گا اور زکوۃ سے آزاد ہو جائے گا اور ان کے کام میں کوئی نقص نہیں ہوگا۔اگر جماعت کے مرد اور عورتیں اس طرف توجہ کریں تو پندرہ ، ہمیں لاکھ روپیہ چند روز میں جمع ہونا مشکل نہیں۔یسواگر چاہتے ہو کہ میری نگرانی میں اسلام کی فتح کا دن دیکھو تو دعاؤں اور قربانیوں میں لگ جاؤ۔تا کہ خدا تمہاری مدد کرے اور جو کام ہم نے مل کے شروع کیا تھا، وہ ہم اپنی آنکھوں سے کامیاب طور پر پورا ہوتا دیکھیں۔میں امید کرتا ہوں کہ اس امانت کی تحریک کے متعلق مجھے بار بارتحریک کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔بلکہ احباب جماعت اور خواتین خود ہی یہ تحریک اپنے دوستوں میں کرتے رہیں گئے۔اور اس کو زندہ رکھیں گئے“۔(مطبوعہ روزنامہ الفضل 126 اپریل 1955ء) 499