تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 497

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از پیغام فرموده 11 مارچ 1955ء میری نگرانی میں فتح کا دن دیکھنا چاہتے ہو تو دعاؤں اور قربانیوں میں لگ جاؤ پیغام فرمودہ 11 مارچ 1955ء۔اس موقع پر میں یہ کہنے میں بھی فخر محسوس کرتا ہوں کہ مجھے جوشکوہ پیدا ہوا تھا کہ اس سال تحریک کے وعدے پورے نہیں آرہے ، خدا تعالیٰ نے جماعت کو اس شکوہ کے دور کرنے کی توفیق بخش دی ہے۔اور اب خدتعالیٰ کے فضل سے آج کی تاریخ تک قریباً چھ ہزار کے وعدے زائد آ چکے ہیں۔اور موجودہ رفتار پر قیاس رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ معیاد کی آخر تک اللہ تعالیٰ کی مدداور نصرت سے چالیس، پچاس ہزار روپے کے وعدے بڑھ جائیں گے۔دنیا کی نظروں میں یہ بات عجیب ہے، مگر خدائے عجیب کی نظر میں یہ بات عجیب نہیں۔کیونکہ اس کے مخلص بندوں کے ہاتھوں سے ایسے معجزے ہمیشہ ہی ظاہر ہوتے چلے آئے ہیں اور قیامت تک ظاہر ہوتے چلے جائیں گئے۔پہلے بھی خدا تعالیٰ ایسے ہی بندوں کے چہروں سے نظر آتا رہا ہے اور اب ہمارے زمانے میں بھی ایسے ہی انسانوں کے چہروں سے نظر آئے گا۔اور ان کے دلوں اور ایمانوں سے ایسے معجزے ظاہر نہیں ہوں گے بلکہ برسیں گئے۔منکر انکار کرتے چلے جائیں گئے ، جبرئیل کا قافلہ بڑھتا جائے گا اور آخر عرش تک پہنچ کر دم لے گا۔عرش کا راستہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات اپنی امت کے لئے کھول دیا ہوا ہے۔اب کوئی ماں ایسا بیٹا نہیں بنے گی، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھولا ہوا راستہ بند کر سکے۔شیطان حسد سے مرجائے گا مگر خدا تعالیٰ کی مددمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شیطانی حسد کی آگ سے بچالے گی۔دوزخ چاہے گندھک کی آگ کی بنی ہوئی ہو یا حسد کی آگ سے ، صاحب الخلق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محفوظ کیا گیا ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا۔دوزخ کے شرارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے لئے ہیں۔اس کے دوستوں کے لئے کوثر کا خوشگوار پانی اور جنت کے ٹھنڈے سائے ہیں۔صرف اتنی ضرورت ہے کہ وہ ہمت کر کے ان سایوں کہ نیچے جا بیٹھیں اور آگے بڑھ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے کوثر کا پانی لے لیں۔لوگ اپنے باپ کی زمینوں اور مکانوں کو نہیں چھوڑتے اور ملک کی اعلیٰ عدالتوں تک جاتے ہیں کہ ہمار اور نہ ہمیں دلوایا جائے۔اگر مسلمانوں میں سے کوئی بدبخت 497