تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 483

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلدسوم - اقتباس از خطبه جمعه فرموده 04 فروری 1955ء جماعت احمدیہ کے قیام کی غرض اسلامی تعلیم سے لوگوں کو روشناس کرانا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 04 فروری 1955ء جماعت احمدیہ کے قیام کی اصل غرض اللہ تعالیٰ نے یہی بتائی ہے کہ اسلامی تعلیم سے لوگوں کو روشناس کرایا جائے۔جو لوگ مسلمان کہلاتے ہیں اور اسلامی تعلیم کو بھول گئے ہیں ، ان کو دوبارہ اسلامی تعلیم سے واقف کیا جائے اور جو لوگ ابھی اسلام میں داخل نہیں ہوئے اور انہیں اسلامی تعلیم کی خبر نہیں، ان کو اسلامی تعلیم سے باخبر کیا جائے۔یہ کام بہت اہم ہے۔لیکن ظاہر ہے کہ یہ ایک روحانی کام ہے اور جب بھی دنیوی ترقیات کی رو چلے گی ، اس کی کشش کم ہو جائے گی“۔وو پس جو اتنا مشکل کام ہے، اس میں کامیابی کا طریق یہی ہے کہ لوگوں کو اس کی طرف مائل کیا جائے۔اور انہیں مائل اسی صورت میں کیا جاسکتا ہے کہ انہیں اس سے آگاہ کیا جائے اور واقفیت بہم پہنچائی جائے ، اس سے پہلے کوئی شخص ہمارے دلائل سننے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔مگر ہر ایک کو یہ دلائل سنانے کون جائے گا؟ ہم ربوہ میں بیٹھے ہیں اور ہماری زبان اردو ہے۔چین ہم سے بہت دور ہے اور وہاں اردو زبان نہیں بولی جاتی۔اب ہم اس ملک کے رہنے والوں کو اپنے دلائل کس طرح سمجھا سکتے ہیں؟ انڈونیشا ہم سے بہت دور ہے، وہاں کے رہنے والے نہ ہماری زبان جانتے ہیں اور نہ ہم ان کی زبان جانتے ہیں، پھر ہم ربوہ میں بیٹھ کر انہیں اپنے دلائل کا قائل کس طرح کر سکتے ہیں؟ پھر جاپانی لوگ ہیں، وہ ہم سے ہزاروں میل دور ہیں اور جاپانی زبان ہمیں آتی نہیں ، ہماری زبان انہیں نہیں آتی ، پھر ہم انہیں اپنے دلائل کیسے سناسکتے ہیں؟ لیکن لڑ پچر کے ذریعہ یہ کام کیا جاسکتا ہے۔ایک چینی یا ایک جاپانی کو حاصل کرنا زیادہ مشکل نہیں، ہم اس کے ذریعہ اپنے لٹریچر کا ترجمہ چینی یا جاپانی میں کرا کے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو اپنے دلائل سنا سکتے ہیں۔ہم خود تو وہاں نہیں جاسکتے لیکن ہماری کتابیں وہاں جاسکتی ہیں۔ہم خود تو ان کی زبان نہیں جانتے لیکن ہماری کتابوں کا ترجمہ چینی اور جاپانی میں کیا جاسکتا ہے۔اور اسی طرح لٹریچر کو دوسرے لوگوں میں پھیلایا جا سکتا ہے۔ماننایا نہ مانا، ان لوگوں کا کام ہے، ہمارا نہیں۔لیکن اس ذریعہ سے دروازہ کھل جاتا ہے اور دروازہ کھلنے سے اس بات کا امکان ہو جاتا ہے کہ وہ ہمارے دلائل کو تسلیم کر لیں۔اس لئے میں نے 483