تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 478
خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم سمجھدار آدمی اس میں انتہائی ترقی کر سکتا ہے۔ایک کمپونڈ اعلیٰ درجہ کا ڈاکٹر نہیں بن سکتا لیکن ایک معمولی طبیب ذاتی مطالعہ سے اعلیٰ درجہ کا طبیب بن سکتا ہے۔کیونکہ اس میں تدبیر اور فکر سے ترقی کی جاسکتی ہے۔اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ہماری طب کی بنیاد کلیات پر ہے لیکن انگریزی طب کی بنیاد جزئیات پر ہے۔اس لئے اس میں فلسفہ کم ہوتا ہے اور آلات اور عملی تدابیر زیادہ ہوتی ہیں۔اس لئے اس میں درس و تعلیم کا دخل زیادہ ہے۔لیکن طب یونانی کی بنیا د فلسفہ پر ہے۔پس جو شخص سوچنے کا عادی ہوگا ، وہ طب میں بہت آگے نکل جائے گا۔میں نے کئی دفعہ سمجھایا ہے کہ مبلغین کو طب سکھاؤ لیکن اس طرف کوئی توجہ نہیں کی گئی۔ابھی تک دنیا میں کئی ایسے علاقے ہیں، جہاں کوئی طبیب نہیں ملتا۔اگر ہمارے مبلغ طبیب بھی ہوں تو وہ اس قسم کے علاقوں میں بہت اچھا کام کر سکتے ہیں۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ طلباء اور دفتر کے عملہ پر انگریزی طلب نے اس قسم کا تسلط کیا ہوا ہے کہ وہ ادھر جاتے ہی نہیں۔روزانہ تجربہ میں یہ بات آتی ہے کہ بعض جگہوں پر ڈاکٹر فیل ہو جاتا ہے لیکن یونانی طبیب کامیاب ہو جاتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے حصے، جن سے جزئیات کا زیادہ تعلق ہوتا ہے، ان میں انگریزی طب زیادہ کامیاب ہوتی ہے۔کیونکہ اس کی بنیاد جزئیات پر ہے۔لیکن جب یہ دونوں علم متوازی صورت میں ہیں تو کیا وجہ ہے کہ طب سے فائدہ نہ اٹھایا جائے؟ پھر ہومیو پیتھک ہے یا بایو کیمک ہے۔یہ اور بھی آسان ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض ممالک میں اس قسم کا قانون بنا دیا گیا ہے کہ جس شخص کے پاس با قاعدہ سند نہ ہو یا اسے دس سال کا تجربہ نہ ہو، وہ طبابت کا پیشہ اختیار نہیں کر سکتا۔لیکن اس وقت بھی بعض ممالک ایسے ہیں، جن میں پاکستان جتنے ڈاکٹر بھی نہیں پائے جاتے۔ایک دفعہ ایک ملک سے ایک دوست نے لکھا کہ مجھے ایک ڈاکٹر بھجوا دیں، میں اسے اپنے پاس سے روپیہ خرچ کر کے دکان کھول دوں گا، وہ یہاں اپنی پریکٹس کرتار ہے۔میں نے اسے لکھا کہ کوئی ڈاکٹر اس کام کے لئے تیار نہیں۔تو اس نے کہا، میری مراد سند یافتہ ڈاکٹر سے نہیں بلکہ کمیونڈر سے ہے۔مجھے کوئی کمپونڈ رہی بھجوادیں، میں اپنے پاس سے خرچ کر کے اس کے لئے دکان کا انتظام کر دوں گا۔غرض ابھی آدھی دنیا ایسی ہے، جس میں ڈاکٹر نہیں۔امریکہ کی طرف دیکھتے ہوئے ، پاکستان نے بھی ایسے خواب دیکھنے شروع کر دیئے ہیں کہ طبیبوں پر پابندی لگادی جائے اور سوائے با قاعدہ سند یافتہ ڈاکٹروں کے کوئی علاج نہ کر سکے۔لیکن حالت یہ ہے کہ ہمارے ملک کے بعض حصوں میں ابھی دس دس ہیں ہیں میل تک ڈاکٹر نہیں ملتا۔اگر ہمارے ملک میں اس قسم کا قانون پاس کر دیا گیا تو ہم امریکہ کی نظر میں مہذب تو بن جائیں گے لیکن ہمارے افراد بیماری اور مصیبت کا شکار ہو جائیں گے۔اور ایسے علاقوں کے رہنے والے لوگ علاج کے بغیر ہی مر جائیں گے۔پاکستان تو ایشیا اور افریقہ کے کئی 478