تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 477

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1955ء مولویت تک محدود نہیں رہے گا۔بلکہ صحابہ کرام کی طرح ان کے اندر دفتری کاموں، تجارت ، صنعت اور زراعت، سیاست، اقتصاد، معاشرت پر غور کرنے کی عادت بھی پیدا ہو جائے گی۔ان کے اندر مال کے انتظام اور اس میں ترقی دینے ، جماعت کی حالت کو سدھارنے اور تعلیم وغیرہ کی قابلیت بھی پیدا ہو جائے گی۔انہیں مختلف محکموں کے کام کا پتہ لگ جائے گا اور ضرورت پڑنے پر وہ اس کام کے کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں گے۔اگر ہمارے پاس اس قسم کے مبلغ تیار ہو جائیں تو جب تک ہم نیا مشن نہیں کھولتے ، ہم ان سے دوسرے محکموں میں کام لے سکتے ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ ہم انہیں امور عامہ، زراعت ، تجارت یا کسی اور محکمہ میں نائب ناظر لگا دیں یا نا ئب ناظر نہیں تو سپریٹنڈنٹ ہی لگا دیں اور وقت پر وکالت اور نظارت ان کے سپرد کر دیں۔اس سے ہمارا خرچ بہت حد تک کم ہو جائے گا۔ایک شخص جس نے زراعت کے محکمہ میں کام کیا ہو، وہ اگر کسی ایسے ملک میں بھیجا جاتا ہے، جہاں لوگوں کا زیادہ تر گزارہ زراعت پر ہے تو وہ بوجہ اپنے تجربہ کے تبلیغ کے علاوہ جماعت کی زرعی حالت کو بھی درست کرے گا۔بہت سے ممالک ایسے ہیں، جو زراعت ، صنعت اور تجارت میں ابھی پاکستان سے بہت پیچھے ہیں۔یورپ اور امریکہ تو بہت آگے جاچکے ہیں لیکن ایشیا اور افریقہ میں بہت سے ایسے ممالک ہیں، جن کی حالت پاکستان کی نسبت بہت خراب ہے۔اگر ہمارے مبلغ اس قسم کے کام سیکھ کر وہاں جائیں تو دوسرے ممالک میں جا کر نہ صرف وہ جماعت کے لئے مفید وجود ثابت ہوں گے بلکہ گورنمنٹ کی نظر میں بھی اور پبلک کی نظر میں بھی وہ ملک کے لئے مفید ہوں گے۔اور وہ سمجھے گی کہ یہ لوگ صرف مولوی نہیں بلکہ ایک زمیندار، صناع اور تاجر بھی ہیں۔اور اگر یہ طریق اختیار کر لیا جائے کہ فارغ وقت میں مبلغین کو کسی اور کام پر لگا دیا جائے تو یہ خطرہ نہیں ہوگا کہ زیادہ آدمیوں کو کہاں لگائیں؟ پھر یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ مبلغین کو بی۔اے کرا کے جرنلسٹ یا استاد بنادیا جائے۔لیکن صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کی اس طرف توجہ نہیں۔پھر میں نے بارہا اس طرف توجہ دلائی کہ مبلغین کو طب سکھائی جائے، اگر ایسا انتظام کیا جائے تو بہت تھوڑی سی توجہ سے وہ طبیب بن جائیں گے۔ہماری طب کے ایسے اصول ہیں کہ انسان ذاتی مطالعہ کی وجہ سے اس میں ترقی کر سکتا ہے۔انگریزی طب کے ایسے اصول نہیں۔ان میں سرجری کا کام زیادہ ہوتا ہے۔اور پھر افعال اور اعضاء کے مختلف نتائج کو کمیاوی طور پر یا خورد مین اور ایکسرے کے ذریعہ دیکھنا ہوتا ہے، جن کو ذاتی مطالعہ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔غرض انگریزی طب کو ایسے کاموں سے وابستہ کر دیا گیا ہے کہ اس کے سیکھنے کے لئے کالج میں داخل ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن ہماری طب ایسی ہے کہ اگر پرائیویٹ طور پر مطالعہ کیا جائے تو ذہین اور 477