تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 36

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 مئی 1948ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اگر کوئی شخص عقل اور سمجھ کا دروازہ بند کر کے اعتراض کرتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ انسانی دماغ کی قیمت گراتا ہے اور چاہتا ہے کہ انسانی تمدن اور تہذیب پہلے سے گر جائیں۔بہر حال جیسا کہ میں نے بتایا ہے، اس خاتون کے الفاظ پر پتہ لگتا ہے کہ اس کے مدنظر صرف اعتراض کرنا نہیں تھا بلکہ اعتراضات کی اصل غرض اصلاح تھی۔چاہے یہ اعتراضات کیسی ہی غلط فہمی پر مبنی تھے۔اس لئے میں اس خاتون کے اس فعل کو اچھا سمجھتا ہوں اور اس کے خاوند پر ہی الزام لگا تا ہوں کہ وہ کیوں خفا ہوا ؟ اور کیوں اس نے ایسا جواب دیا، جو اعتراض کو پکا کرنے والا تھا۔اسے چاہیے تھا کہ اعتراض کو بجائے پکا کرنے کے اس کا مدلل جواب دیتا۔ہر شخص کو دلیل سے قائل کرنا چاہیے، خواہ بیوی ہو یا خاوند کسی کا کوئی حق نہیں کہ وہ دماغی افکار پر حکومت کرنا چاہے۔دماغی افکار پر سوائے خدا کے اور کوئی حکومت نہیں کر سکتا اور خدا بھی کہتا ہے کہ میں ایسا نہیں کیا کرتا۔پھر اور کون ایسا کر سکتا ہے؟“۔( مطبوعه روزنامه الفضل 26 مئی 1948ء) 36