تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 475
خطبہ جمعہ فرمود و 28 جنوری 1955ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک جلد سوم تبدیلی کی جائے کہ موجودہ خرچ میں ہی کام کو آگے پھیلایا جا سکے۔اس وقت تک ہماری یہ رائے ہے کہ نئے مشن کھولنے کی بجائے پرانے مشنوں کو زیادہ مضبوط کیا جائے ، ان کے کام کو صحیح طریق پر ڈھالا جائے اور انہیں پہلے سے زیادہ مالی مدد دی جائے۔جب وہ مشن اپنا بوجھ اٹھا لیں تو نئے مشن کھولے جائیں۔پچھلے دور میں یہ ہوتا تھا کہ جو نہی کسی ملک سے مبلغ کے لئے آواز آتی ، ہماری کوشش یہ ہوتی تھی کہ ہم اس کی آواز کو سنیں اور اس کا جواب دیں۔اس کے نتیجہ میں بعض مشنوں نے تو اپنا بوجھ آپ اٹھالیا لیکن بعض مشن ایسے تھے ، جو اپنا بو جھ آپ نہیں اٹھا سکے اور ان کا بوجھ روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔پھر انسانی طبائع مختلف ہوتی ہیں۔بعض مبلغ ایسے ہوتے ہیں، جو نظم کے عادی ہوتے ہیں۔وہ مرکز کی ہدایات کے مطابق کام کرتے ہیں۔اور بعض مبلغ ایسے ہوتے ہیں، جو مرکز کو ڈراتے رہتے ہیں کہ ہمیں یہ دے دو، وہ دے دو۔ہمیں فلاں چیز بھیج دو۔اور اس طرح وہ سمجھتے ہیں کہ مرکز گھبراہٹ میں ان کے حسب منشاء کام کر دے گا۔جو مبلغ نظم کے عادی ہوتے ہیں اور نظام سلسلہ کے پابند ہوتے ہیں، میں نے دیکھا ہے کہ وہی مبلغ اپنے کام میں کامیاب ہوتے ہیں۔اور جن کو یہ اصرار ہوتا ہے کہ ان کی ہر بات کو مان لیا جائے ، میں نے دیکھا ہے کہ وہ سالہا سال تک ایک ملک میں رہ کر آ جاتے ہیں لیکن ڈھاک کے وہی تین پات والا معاملہ ہوتا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ ہم اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ تبلیغ کے نظام میں اس قسم کی مناسب تبدیلی کر دی جائے ، جس سے موجودہ خرچ میں ہی کام وسیع کیا جا سکے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ چندہ میں ہر سال زیادتی نہ ہو۔اس طرح تو ہمارا قدم رک جائے گا اور جماعت کی ترقی رک جائے گی۔گو ہماری کوشش ہوگی کہ بجٹ کو اس طور پر نہ بڑھایا جائے کہ وہ جماعت کی طاقت سے باہر ہو جائے۔لیکن اس تبدیلی میں کچھ دن لگیں گے۔اول تو یہ بات لازمی ہوگی کہ پہلے مشن کو قائم رکھا جائے اور اسے پہلے سے زیادہ مضبوط کیا جائے اور اس سے بہر حال اخراجات میں زیادتی ہوگی۔لیکن یہ ضرور دیکھا جائے گا کہ اخراجات میں پہلے کی رفتار سے زیادتی نہ ہو۔پہلے یہ ہوتا تھا کہ ایک سو کی آمد ہوئی تو اگلے سال کے خرچ کا اندازہ - 175 یا۔200 تک ہو گیا۔لیکن اب ہماری یہ سکیم ہے کہ اخراجات بے شک بڑھیں، لیکن یہ بڑھوتی اس طرح کی ہو کہ گذشتہ سال مثلاً آمد ایک سو ہے تو اگلے سال اخراجات کا اندازہ-/105 ہو جائے۔بڑھوتی بہر حال ہو گی۔پھر اس کے مقابلہ میں یقینا ہماری آمد بھی زیادہ ہوگی۔اگر جماعت ہر سال بڑھتی رہے، اگر اس کی اقتصادی حالت ہر سال اچھی ہوتی رہے اور اگر جماعت کا زمیندار اور صناع پہلے کی نسبت زیادہ ہوشیار ہوتا 475