تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 469

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطاب فرمودہ 24 جنوری 1955ء جاؤ اور انہیں تبلیغ کر کے ساتھ ملا ؤ اور پھر بیعت کرو۔ورنہ تمہیں ایک دو افراد کی بیعت کا کیا فائدہ؟ چھوٹے چھوٹے قبائل کو بے شک علیحدہ علیحدہ بھی مخاطب کر لو۔میں اس سے منع نہیں کرتا لیکن بڑے قبائل اور بڑی اقوام کو ہمیشہ قوم وار مخاطب کرو۔ایک بات میں نے ان سے یہ بھی کہی ہے کہ دوسرے لوگ باہر جاتے ہیں، وہ اپنے وقار کا خاص خیال رکھتے ہیں۔لیکن ہمارے مبلغین کی اس طرف توجہ نہیں۔مبلغین کو یہ بات ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنی چاہئے کہ غیر ملکوں میں ان کی عزت زیادہ ہوتی ہے۔مثلا تم میرے سامنے آتے ہو تو میں تمہیں تم تم کہہ کر مخاطب کرتا ہوں۔اس کے علاوہ اگر گوئی تمہارا استاد سامنے آجاتا ہے تو اس کے سامنے بھی تم اس کے شاگرد ہوتے ہو۔لیکن باہر تم استاد ہوتے ہو اور دوسرے لوگ تمہارے شاگرد ہوتے ہیں۔تمہیں باہر جا کر اس قسم کی ذہنیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ محض جی حضور یے بن کر نہ رہ جاؤ تم کمشنروں اور گورنروں سے بے دھڑک ملوں۔یہاں تو تم ایک تحصیلدار سے بھی نہیں مل سکتے۔لیکن وہاں تمہاری پوزیشن اس قسم کی ہوتی ہے کہ تم بے دھڑک کمشنروں اور گورنروں سے مل سکتے ہو۔انہیں کیا پتہ ہے کہ کس کے شاگرد ہو؟ تمہاری پوزیشن وہاں ایک سفیر کی ہوتی ہے۔تم وہاں جا کر اپنی ذہنیت کو بدل لو اور ڈر اور خوف کو اپنے پاس نہ آنے دو۔یہاں تم ما تحت ہوا اور درجہ میں دوسروں سے نیچے ہو۔اگر ہماری عمریں ایک ہزار سال کی بھی ہوں اور تمہاری عمر 900 سال کی ہو جائے ، تب بھی تم ماتحت رہو گے اور تمہاری گردنیں ہمارے سامنے جھکی ہوں گی۔لیکن جب تم باہر جاؤ گے تو تم ایک بڑی جماعت کے لیڈر اور نمائندہ ہو گے اور دوسرے لوگ تمہاری اس پوزیشن کا لحاظ رکھیں گے۔اس لئے جب تم باہر جاؤ تو کسی بڑے عہدیدار سے ڈرو نہیں۔تم ان سے مساوی رنگ میں گفتگو کرو۔تم مولوی نذیر احمد صاحب مبشر کو ہی دیکھ لو، انہوں نے گولڈ کوسٹ میں ایک مسجد بنائی اور اس موقع پر ملک کے وزیر اعظم کو بھی بلایا۔اور وہ آ گیا اور پھر وہ صرف مسجد کے احترام کی وجہ سے آ گیا۔گیسٹ آف آنر کے طور پر اس قسم کے لوگ بے شک آجاتے ہیں لیکن عام مہمان کی حیثیت سے ان کا آنا مشکل ہوتا ہے۔لیکن وہاں یہ حالت تھی کہ وزیراعظم کو اس موقع پر صرف شمولیت کے لئے بلایا گیا اور وہ آگیا۔لیکن یہاں مولوی نذیر احمد صاحب مبشر کی پوزیشن ایک ماتحت کی ہے۔اور میرے سامنے تو ان کی پوزیشن ایک بچہ کی سی ہے۔اور پھر ان کے یہاں استاد بھی ہیں۔لیکن وہاں وہ کسی کے پاس جائیں تو وہ یہ سمجھے گا کہ ایک بڑی جماعت کا ہیڈ مشنری میرے پاس آیا ہے۔469