تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 35
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 مئی 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم نے ایک صحابی کو بلایا اور اسے ایک دینار دے کر فرمایا کہ اس کا بکرا لے آؤ۔وہ تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا تو اس نے کہا یا رسول اللہ ! یہ بکر ابھی حاضر ہے اور دینار بھی حاضر ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، یہ تم نے کیا کیا، کیا بغیر قیمت ادا کئے لے آئے ہو؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! یہ بات نہیں۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ بجائے مدینے سے خریدنے کے میں تین، چار میل باہر چلا گیا۔وہاں ایک دینار کے دو بکرے مل گئے۔مدینہ آکر میں نے ایک بکرا، ایک دینار میں بیچ دیا۔اب یہ بکرا بھی حاضر ہے اور دینار بھی حاضر ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اس صحابی کو کوئی سزا نہیں دی۔یہ نہیں فرمایا کہ تو بہت نالائق ہے تو بکرا بھی لے آیا اور دینار بھی واپس کر رہا ہے۔بلکہ فرمایا، خدا تعالیٰ تمہارے کاموں میں برکت دے۔پھر اس صحابی کے کاموں میں اتنی برکت پیدا ہوئی کہ صحابہ کہتے ہیں، اگر وہ مٹی کو بھی ہاتھ لگا تا تو سونا بن جاتی۔لوگ آتے اور اس کے گھر میں روپیہ دے کر کہتے کہ کسی ایک تجارت میں ہی ہمارا حصہ ڈال لو۔پس عقل اور سمجھ سے کام لیتے ہوئے ، اگر کسی کی صفائی زیادہ ہو تو بری بات نہیں ، اچھی بات ہے۔میری ایک شادی ہوئی ، اس بیوی کی والدہ انتظامی معاملات میں کچھ کچھی تھیں۔انہوں نے لڑکی کو بستر دیتے وقت ایک گدیلا بھی ساتھ رکھ دیا اور کہا کہ اگر لڑ کی ایک گدلا کہیں پھینک دے تو دوسرا استعمال کر لینا۔ان کی اس بات پر اب بھی ہمارے خاندان میں جنسی ہوا کرتی ہے۔انہوں نے خیال کیا کہ جس طرح میں اپنی چیزوں کو سنبھال کر رکھنے کی عادی نہیں، اسی طرح یہ بھی ہوگی۔ایسی حالت میں یہ گدیلا اس کے کام آجائے گا۔پس ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں۔مگر وہ بھی ہوتے ہیں، جو چیز کو سنبھال کر رکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ایسی چیز خواہ کتنی ہی پرانی ہو جائے لوگوں کو اچھی نظر آتی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ میرا لباس اور دوسری چیزیں عام طور پر دیر تک چلتی چلی جاتی ہیں اور پھر اس قدرا اکٹھی ہو جاتی ہیں کہ میں ان کو بانٹ دیتا ہوں۔پھر دوبارہ یہ سلسلہ اس طرح پر چل پڑتا ہے۔لباس کو بار بار بدلنا اور اس کے متعلق خاص احتیاط سے کام لینا، یہ مجھے پسند نہیں۔جب میں ولایت گیا تو دوکوٹ بنوا کر اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ان میں سے میں نے صرف ایک ہی استعمال کیا، دوسرے کو چھوا بھی نہیں۔دوستوں نے کہا بھی کہ اس کا برا اثر ڑے گا۔مگر میں ان سے یہی کہتا کہ ان لوگوں کے نزدیک معیوب بات ہے، ہمارے نزدیک تو معیوب نہیں۔چنانچہ جس لباس میں میں گیا تھا، اسی میں واپس آگیا۔وہاں کے لحاظ سے یہ بات معیوب ہوگی مگر یہاں کے لحاظ سے ہمیں تو برا لگتا ہے کہ بار بار کپڑے بدلنے پر وقت ضائع کیا جائے۔بہر حال پھوہر ین قابل ملامت چیز ہے اور عقل قابل تعریف چیز ہے۔اسراف قابل الزام چیز ہے اور عقل اور سمجھ سے کام لے کر چیزوں کو سنبھال کر رکھنا ، قابل تعریف چیز ہے۔35