تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 463
تحریک جدید- ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1954ء آج امریکہ کا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے، کیا آج چین اور جاپان کا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے یا شمالی علاقوں کا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے کہ اسلام غالب آ جائے گا اور عیسائیت شکست کھا جائے گی ؟ کیا کوئی شخص یہ خیال کر سکتا ہے کہ ربوہ ، جو ایک کوردہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا، ایک شور زمین والا ، جس میں اچھی طرح فصل بھی نہیں ہوتی، جس میں پانی بھی کوئی نہیں، اس ربوہ میں سے وہ لوگ نکلیں گے، جو واشنگٹن اور نیو یارک اور لندن اور پیرس کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے؟ تو یہ تمہاری حیثیت ہے کہ کوئی شخص ، نہ دشمن، نہ دوست، یہ قیاس بھی نہیں کر سکتا کہ تم دنیا میں یہ کام کر سکتے ہو۔مگر تمہارے اندر خدا تعالیٰ نے یہ قابلیت پیدا کر دی ہے۔تمہارے لئے خدا تعالیٰ نے یہ وعدے کر دیتے ہیں ، بشرطیکہ تم استقلال کے ساتھ اور ہمت کے ساتھ اسلام کی خدمت کے لئے تیار رہو۔اگر تم اپنے وعدوں پر پورے رہو، اگر تم اپنی بیعت پر قائم رہو تو خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا تاج تم چھین کے لاؤ گے اور تم پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر رکھو گے۔تم تو چند پیسوں کے اوپر ہچکچاتے ہو، مگر خدا کی قسم ، اگر اپنے ہاتھوں سے اپنی اولادوں اور اپنی بیویوں کو ذبح کرنا پڑے تو یہ کام پھر بھی سستا ہے۔پس نو جوانوں کو یہ سوچ لینا چاہئے کہ ان کے آباء نے قربانیاں کیں اور خدا کے فضل سے وہ اس مقام پر پہنچے۔کچھ ان میں سے فوت ہو گئے اور کچھ اپنا بوجھ اٹھائے چلے جارہے ہیں۔میں نو جوانوں سے کہتا ہوں کہ اب وہ آگے بڑھیں اور اپنی قربانیوں سے یہ ثابت کر دیں کہ آج کی نسل پہلی نسل سے پیچھے نہیں بلکہ آگے ہے۔جس قوم کا قدم آگے کی طرف بڑھتا ہے، وہ قوم ہمیشہ آگے کی طرف بڑھتی ہے اور جس قوم کی اگلی نسل پیچھے بہتی ہے، وہ قوم بھی پیچھے بٹنی شروع ہو جاتی ہے۔کچھ عرصہ تک تمہارے بوجھ بڑھتے چلے جائیں گے، کچھ عرصہ تک تمہاری مصیبتیں بھیانک ہوتی چلی جائیں گے، کچھ عرصہ تک تمہارے لئے ناکامیاں ہرقسم کی شکلیں بنا بنا کر تمہارے سامنے آئیں گی۔لیکن پھر وہ وقت آئے گا ، جب آسمان کے فرشتے اتریں گے اور وہ کہیں گے، بس ہم نے ان کا دل جتنا دیکھا تھا، دیکھ لیا۔جتنا امتحان لینا تھا، لے لیا۔خدا کی مرضی تو پہلے سے یہی تھی کہ ان کو فتح دے دی جائے۔جاؤ، ان کو فتح دے دو۔اور تم فاتحانہ طور پر اسلام کی خدمت کرنے والے اور اس کے نشان کو پھر دنیا میں قائم کرنے والے قرار پاؤ گے۔پس بڑوں کو چاہئے کہ اپنے بچوں کی تربیت کریں اور بچوں کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت میں حصہ لیں اور وقف زندگی کریں۔تاکہ تمہاری قربانیوں کے ذریعہ سے پھر اسلام طاقت اور قوت پکڑے“۔مطبوعه روزنامه الفضل 28 اکتوبر 1955ء) 463